جرمنی میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری، دونوں ملکوں کے درمیان اہم معاہدہ طے پاگیا

منگل 13 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوہری شہریت سے متعلق ایک اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

جرمنی میں قائم پاکستانی سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دوہری شہریت کے حوالے سے تمام قانونی، آئینی اور ضابطہ جاتی تقاضے مکمل کر لیے گئے ہیں، جس کے بعد جرمنی کو باضابطہ طور پر ان ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جن کے ساتھ پاکستان دوہری شہریت کی اجازت دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جرمنی کو ملازمت کے لیے کس شعبے کے ماہرین کی اشد ضرورت ہے؟

برلن میں واقع پاکستانی سفارت خانہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری عوامی نوٹس کے مطابق اب جرمنی میں مقیم پاکستانی نژاد افراد جرمن شہریت حاصل کرنے کی صورت میں اپنی پاکستانی شہریت برقرار رکھ سکیں گے۔ اس سے قبل جرمن شہریت کے حصول کے لیے پاکستانی شہریت ترک کرنا لازمی شرط تھی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ جرمنی میں آباد پاکستانی کمیونٹی کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل ہے، جس سے ہزاروں پاکستانی تارکینِ وطن کو قانونی تحفظ اور عملی سہولت حاصل ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پاکستان اور جرمنی کے درمیان سماجی، معاشی اور سرمایہ کاری کے روابط مزید مضبوط ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے: دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ: متحدہ عرب امارات 7 ویں بار بازی لے گیا، ایشیا کی شاندار پیش قدمی، یورپ کی تنزلی

اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ وہ پاکستانی نژاد افراد جنہوں نے ماضی میں جرمن شہریت حاصل کرنے کے لیے اپنی پاکستانی شہریت ترک کی تھی، ان کے لیے پاکستانی شہریت کی بحالی (ری ایکوزیشن) سے متعلق طریقۂ کار، شرائط اور مطلوبہ دستاویزات کی تفصیلات جلد الگ سے جاری کی جائیں گی۔ اس حوالے سے متعلقہ اداروں سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔

دوہری شہریت کی اجازت کے بعد جرمنی میں مقیم پاکستانی شہریوں کو روزگار، کاروبار، تعلیم اور سفری سہولیات میں نمایاں آسانی حاصل ہوگی، جبکہ پاکستان میں جائیداد، بینکاری، سرمایہ کاری اور خاندانی معاملات میں بھی انہیں بہتر قانونی سہولت میسر آئے گی۔

جرمنی میں مقیم پاکستانی شہری محمد حمزہ علی، جو گزشتہ 5 برس سے برلن میں ایک آئی ٹی کمپنی سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ اب تک جرمن شہریت حاصل کرنے سے اس لیے گریزاں تھے کیونکہ اس کے لیے پاکستانی شہریت چھوڑنا ضروری تھا۔ ان کے مطابق پاکستانی شناخت ترک کرنا جذباتی اور عملی دونوں حوالوں سے مشکل فیصلہ تھا، کیونکہ ان کے خاندان اور قانونی معاملات پاکستان سے جڑے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کسی غیر ملکی بچے کی پیدائش پر پاکستانی شہریت نہیں دی جائیگی، ترمیمی بل پاس

پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوہری شہریت کی اجازت کے بعد محمد حمزہ علی جیسے ہزاروں پاکستانیوں کے لیے صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔ اب وہ جرمن شہریت حاصل کرتے ہوئے اپنی پاکستانی شہریت برقرار رکھ سکیں گے، جس سے انہیں یورپی یونین میں بہتر مواقع اور پاکستان میں قانونی سہولتیں حاصل ہوں گی۔

واضح رہے کہ پاکستان پہلے ہی امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، فرانس، اٹلی، بیلجیئم، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے، ڈنمارک، فن لینڈ، سوئٹزرلینڈ، آئرلینڈ، آئس لینڈ، لکسمبرگ، بحرین، مصر، اردن اور شام سمیت متعدد ممالک کے ساتھ دوہری شہریت کی اجازت دیتا ہے۔ اب جرمنی کی شمولیت کے بعد یورپ میں مقیم پاکستانیوں، خصوصاً جرمنی میں آباد بڑی پاکستانی کمیونٹی کو نمایاں قانونی اور سفری سہولت حاصل ہو گئی ہے۔

سفارت خانۂ پاکستان نے جرمنی میں مقیم پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دوہری شہریت سے متعلق مزید اپ ڈیٹس اور تفصیلات کے لیے سفارت خانے کی سرکاری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نظر رکھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟