شنگھائی ایئرپورٹ پر بھارتی خاتون کو زیر حراست رکھے جانے پر انڈیا کا چین سے شدید احتجاج

بدھ 26 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت نے شنگھائی ایئرپورٹ پر ایک بھارتی شہری کو مبینہ طور پر 18 گھنٹے تک زیر حراست رکھے جانے کا واقعہ سامنے آنے پر چین سے شدید احتجاج کیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں مقیم ایک خاتون، پریما وانگجوم تھونگڈوک، جو بھارتی پاسپورٹ رکھتی ہیں، 21 نومبر کو شنگھائی میں ٹرانزٹ کے دوران چینی حکام نے ان کا پاسپورٹ ‘غیر معتبر’ قرار دیتے ہوئے انہیں آگے سفر سے روک دیا۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی فضائی پابندی سے ایئر انڈیا کو شدید نقصان، چین سے فضائی راستہ حاصل کرنے کی کوششیں

رپورٹس کے مطابق چینی حکام کا مؤقف تھا کہ چونکہ خاتون کا تعلق بھارتی ریاست اروناچل پردیش سے ہے، اس لیے ان کا بھارتی پاسپورٹ معتبر نہیں۔ چین اروناچل پردیش کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اسے ‘زانگ نان’ کے نام سے پکارا جاتا ہے، تاہم بھارت اس دعوے کو مسلسل مسترد کرتا چلا آیا ہے۔

پریما تھونگڈوک کا کہنا ہے کہ انہیں جاپان جانے والی پرواز میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور وہ بغیر کسی واضح وجہ کے 18 گھنٹوں تک حراست میں رہیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کی رات جاری بیان میں کہا کہ ‘چینی حکام اب تک اپنے اقدامات کی کوئی قابل قبول وضاحت پیش نہیں کر سکے، جو بین الاقوامی فضائی سفر سے متعلق کئی کنونشنز کی خلاف ورزی ہے۔’

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے اس معاملے کو چین کے ساتھ بہت سختی سے اٹھایا ہے۔ دوسری جانب چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بیان دیا کہ ایئرپورٹ پر کی جانے والی چیکنگ متعلقہ قوانین و ضوابط کے مطابق تھی۔

یہ بھی پڑھیے: چین اور بھارت پر روسی تیل خریدنے پر 100 فیصد ٹیرف لگایا جائے، ٹرمپ کا یورپی یونین سے مطالبہ

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں تناؤ کے باوجود بھارت اور چین تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں اور اعلیٰ سطحی دوروں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم 2020 کی سرحدی جھڑپ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا بحران برقرار ہے، جس میں دونوں جانب سے فوجی اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘