امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے پیشرو جو بائیڈن کے دور میں آٹوپین سے دستخط شدہ تمام ایگزیکٹو احکامات، اعلامیے اور ہدایات منسوخ کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بائیڈن نے خود دستخط نہیں کیے اور یہ اقدام غیر قانونی تھا۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) November 28, 2025
ماہرین قانون کے مطابق، صدر کے دستخط کا طریقہ قانونی اعتبار سے اہم نہیں بلکہ منظوری ضروری ہے، لہٰذا ٹرمپ کے اعلان پر عدالتوں میں چیلنجز متوقع ہیں۔ اس فیصلے سے بائیڈن دور کے کئی پالیسی اقدامات، بشمول ماحولیاتی، تعلیمی اور امیگریشن قوانین، غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹرانسپرینسی ایکٹ پر دستخط، کیا ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی اس کی لپیٹ میں آئیں گے؟
قانونی اور سیاسی نتائج
ٹرمپ کے اعلان نے طویل عرصے سے قائم قانونی اصولوں کو چیلنج کیا ہے، کیونکہ امریکی انتظامی قانون میں ایگزیکٹو ایکشن کی قانونی حیثیت اس کی منظوری اور نیت پر مبنی ہوتی ہے، دستخط کے طریقے پر نہیں۔
ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر بائیڈن کی منظوری کی تصدیق نہ ہو تو ٹرمپ کے تمام احکامات کی منسوخی عدالت میں چیلنج کا شکار ہو سکتی ہے۔
اس سیاسی اقدام سے ٹرمپ پچھلی انتظامیہ کو غیر معتبر بنانے اور اوول آفس میں طاقت مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس اسے قانونی بحران قرار دے رہے ہیں اور ری پبلکن اسے ’طریقہ کار کی اصلاح‘ سمجھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا تمام تیسری دنیا کے ممالک سے امریکا ہجرت روکنے کا اعلان
بین الاقوامی تعلقات پر اثرات
ٹرمپ کے احکامات کی منسوخی بین الاقوامی تعلقات پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ بائیڈن دور کے معاہدے اور پالیسی وعدے اب غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جن میں ماحولیاتی تعاون، پناہ گزینوں کی آمد، طلبہ ویزے، تجارتی سہولیات اور سیکیورٹی تعاون شامل ہیں۔
غیر ملکی حکومتیں دوطرفہ معاہدوں اور تعاون کے فریم ورک کی وضاحت طلب کر سکتی ہیں، اور واشنگٹن میں اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ اس اقدام سے طویل المدتی پالیسی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان جیسے ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔














