‘اسلام آباد اتوار بازار ڈیجیٹل پیمنٹ نظام اچھا مگر انٹرنیٹ بیٹھ جائے تو کاروبار رک جاتا ہے’

جمعرات 4 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیرِاعظم کے ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کے تحت اسلام آباد کے معروف اتوار بازار کو مکمل طور پر کیش لیس مارکیٹ میں تبدیل کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ریلوے میں کیش لیس نظام کا آغاز، مسافروں کے لیے ادائیگی کا جدید طریقہ متعارف

اس ہفتے اتوار بازار میں خریداروں اور دکانداروں کے لیے جدید ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولیات فراہم کردی گئی ہیں جسے ملک کو ڈیجیٹل معیشت کی طرف لے جانے میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اتوار بازار میں پہنچنے پر واضح طور پر گہما گہمی دیکھی گئی۔ زیادہ تر خریدار اور دکاندار اس نئے نظام سے مطمئن نظر آئے، تاہم کئی لوگوں نے کچھ مسائل خصوصاً انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور سگنلز کی کمی کی نشاندہی بھی کی۔

رقم لانے سے ڈر لگتا تھا اب سہولت ہو گئی، عوام کا تبصرہ

خریداروں نے کیش لیس ماحول کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب رقم ساتھ رکھنے کی جھنجھٹ اور چوری کا خطرہ کم ہو گیا ہے جبکہ ادائیگی کا عمل پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔

ایک نوجوان احمد نے کہا کہ ہم ہر جگہ ڈیجیٹل پیمنٹ استعمال کرتے ہیں اور خوشی ہے کہ اب اتوار بازار بھی جدید معیار پر آ گیا ہے۔

کچھ شکایات

تاہم عوام کی مشترکہ شکایت انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی رہی۔ کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ نیٹ بند ہونے پر ادائیگی رک جاتی ہے، لائنیں لگ جاتی ہیں اور خریداری کا وقت بڑھ جاتا ہے۔

نظام دیا ہے تو فری وائی فائی بھی دیں، عوام کا مطالبہ

عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت نے نظام دیا ہے تو فری وائی فائی بھی ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیے: اسلام آباد میں سی ڈی اے کے شعبوں میں کیش لیس نظام نافذ کرنے کا فیصلہ

خریداروں کا کہنا تھا کہ کیش لیس نظام کی کامیابی مستحکم انٹرنیٹ پر منحصر ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بازار میں ہجوم کے باعث موبائل نیٹ ورک پر لوڈ بڑھ جاتا ہے جس سے سروس متاثر ہوتی ہے۔

ایک بزرگ شہری نے کہا کہ نظام اچھا ہے مگر جب انٹر نیٹ بیٹھ جائے تو دکاندار اور خریدار دونوں ہی پریشان ہوجاتے ہیں۔

دکانداروں کی رائے کہ حکومت کے اس قدم سے کاروبار میں شفافیت اور آسانی آئی ہے۔

لین دین میں شفافیت آگئی، دکاندار

اتوار بازار کے اکثر دکاندار اس اقدام سے خوش نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حساب کتاب منظم ہو گیا ہے اور خریداروں سے لین دین میں تیزی اور شفافیت آ گئی ہے۔

15 سال سے کپڑوں کا اسٹال لگانے والے شکیل بھائی نے کہا کہ اب نہ بقایا پیسوں کا مسئلہ ہے اور نہ غلط حساب کتاب کا کیوں کہ موبائل پر سب کچھ واضح نظر آتا ہے۔

ایک پھل فروش نے بتایا کہ زیادہ تر لوگ کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کر رہے ہیں لیکن وہ بھی انٹرنیٹ کی خرابی سے متاثر ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ کا کیش لیس آپریشن، پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کی نئی سمت

دکانداروں نے بھی حکومت سے فری وائی فائی اور بہتر کنیکٹیویٹی کا مطالبہ دہرایا۔

روایتی ہلچل اور ڈیجیٹل سہولت کا ملاپ

بازار میں ایک طرف روایتی خریداری کی چہل پہل برقرار دکھائی دیتی ہے تو دوسری جانب کیو آر کوڈز، ڈیجیٹل مانیٹرز اور موبائل پیمنٹ اسٹیشنز نے ماحول کو جدید رنگ دے دیا ہے۔

اس مرتبہ خریداروں کی مدد کے لیے انتظامیہ کا خصوصی عملہ موجود تھا جو ایپس اور ادائیگی کے مراحل میں رہنمائی کر رہا تھا۔

حکومتی مؤقف

حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد عام آدمی کی زندگی آسان بنانا ہے اور دوسری جانب کیش لیس مارکیٹس سے کرپشن کم ہوگی اور معیشت میں شفافیت بھی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ عوامی رائے کو سامنے رکھ کر انٹرنیٹ کے مسائل بھی حل کیے جائیں گے۔

عوام اور دکانداروں کی مشترکہ رائے

اس تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ لوگ ڈیجیٹل نظام اپنانے کے لیے تیار ہیں۔ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزرگ شہری بھی اس تبدیلی کو سراہ رہے ہیں۔ تاہم مضبوط انٹرنیٹ کے بغیر یہ نظام اپنی مکمل افادیت حاصل نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد میں سی ڈی اے کے شعبوں میں کیش لیس نظام نافذ کرنے کا فیصلہ

اگر یہ ماڈل کامیابی سے جاری رہا تو مستقبل میں مزید مارکیٹیں اور عوامی مقامات ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام سے آراستہ کیے جا سکیں گے اور یوں پاکستان حقیقی معنوں میں ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ سکے گا۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ پر خاموشی قبول نہیں، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار

ایم 9 موٹروے حادثہ: اموات کی تعداد 14 ہوگئی، 12 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے نکلا

رواں سال ڈیڑھ لاکھ افغانوں کی وطن واپسی، افغانستان میں صورتحال سنگین

عمران خان کو نجی اسپتال میں داخل کرانے کا مطالبہ، حکومت کا ردعمل آگیا

ٹی20 ورلڈ کپ: محسن نقوی کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا جانے کا امکان

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟