وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ملک کے باقی تین صوبوں کو ان کے جائز حقوق دیے جا رہے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ ان کا اپنا صوبہ اس سے محروم ہے۔
اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یہ کہاکہ اگر بیرسٹر گوہر کے ہاتھ میں ملاقات کا معاملہ ہوتا تو وہ عمران خان سے پہلے ملاقات کر لیتے اور بانی ایک ماہ تک تنہائی میں قید نہ رہتے۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اڈیالہ جیل جانے سے روک دیا گیا
سہیل آفریدی نے بتایا کہ وہ این ایف سی اجلاس کے بعد یہاں پہنچے ہیں اور اجلاس میں خیبرپختونخوا کے مؤقف کو پیش کیا۔
بیرسٹر گوہرکے ہاتھوں میں ملاقات کروانا ہوتا تو عمران خان ایک مہینہ قید تنہائی میں نا رہتے. سہیل آفریدی pic.twitter.com/K34A0Ex2dF
— WE News (@WENewsPk) December 4, 2025
انہوں نے واضح کیا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد قبائلی اضلاع خیبرپختونخوا میں ضم کر دیے گئے، لیکن ان اضلاع کا مالی شیئر ابھی تک صوبے کو نہیں ملا، جو غیر آئینی ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق اجلاس میں شرکا اس بات پر متفق ہوئے کہ بدھ تک سب کمیٹی قائم کی جائے گی اور 8 جنوری تک اپنی سفارشات پیش کریں گی۔ این ایف سی کا اگلا اجلاس جنوری میں ہوگا۔
سہیل آفریدی نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشتگردی کی جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے، مگر صوبے کو اس کا حق نہیں دیا گیا۔ تاہم انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ صوبے کو اس کا حق فراہم کیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشتگردوں کی سہولت کاری کے پی حکومت نہیں بلکہ وہ کر رہے ہیں جنہوں نے کچھ جرائم پیشہ افغانی امیدواروں کے کاغذات منظور کروائے۔ پہلے گڈ طالبان اور بیڈ طالبان تھے، اب گڈ افغانی اور بیڈ افغانی ہیں اور جرائم پیشہ افراد کو پارلیمنٹ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
دریں اثنا عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچنے کے باوجود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا آج بھی بغیر ملاقات کے واپس لوٹ گئے، انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے میڈیا سے گفتگو میں کہاکہ وہ 7 دسمبر کو پشاور میں جلسہ کریں گے اور اس میں اگلا لائحہ عمل طے کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ عدالتی حکم کے مطابق ملاقات کی کوششیں جاری ہیں، منگل کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں اور جمعرات کو سیاسی شخصیات سے ملاقات ہوگی۔
شفیع جان نے مزید کہاکہ وزیراعلیٰ نویں بار ملاقات کے لیے آئے ہیں لیکن ملاقات نہیں دی گئی۔ ہم یہ تمام معاملات آن ریکارڈ لانا چاہتے ہیں اور بانی کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔














