صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ 1936 میں بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی کے بعد سندھ کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اس نے نہ صرف اپنی آئینی حیثیت مستحکم کی بلکہ ایک الگ تہذیبی شناخت بھی قائم کی۔
سندھی ثقافت کے دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں صدر زرداری نے کہا کہ سندھ وہ پہلا صوبہ تھا جس کی اسمبلی نے قیامِ پاکستان کی قرارداد منظور کی اور یوں تاریخ کے ایک اہم موڑ پر فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امن و محبت کی دھرتی سندھ کی ثقافت کے دلکش رنگ
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ سندھ کی سرزمین ہمیشہ سے وسعتِ نظر، ہم آہنگی اور باہمی احترام کی علامت رہی ہے۔
Sindhi Culture Day is celebrated every year on the first Sunday of December, when people wear the Sindhi Topi and Ajrak.
This day is an opportunity to highlight the culture of Sindh across the world and to convey a message of love and peace.In 2009, an incident created… pic.twitter.com/G7CaaJJw3n
— Nadeem Ahmed Bhutto (@Bhuttoiest) December 7, 2025
صدر کے مطابق صوبے میں بڑی تعداد میں اردو بولنے والے شہریوں کی موجودگی اسے ثقافتی تکثیریت اور قومی یکجہتی کی روشن مثال بناتی ہے۔
آصف زرداری نے مزید کہا کہ سندھی زبان پاکستان کی ترقی یافتہ اور مضبوط ادبی روایت رکھنے والی زبانوں میں سے ایک ہے، جہاں درجنوں روزنامے، ٹی وی چینلز اور ریڈیواسٹیشن اس زبان کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: عبداللہ شاہ غازیؒ کے عرس پر کراچی میں تعطیل کا اعلان
انہوں نے کہا کہ سندھی کلچرڈے ہمیں رواداری، تکثیریت اور پرامن بقائے باہمی جیسی اقدار کے فروغ کی یاددہانی کراتا ہے۔
صدرِ مملکت نے زور دیا کہ سندھ کی تہذیب برداشت، امن اور قومی وحدت کی علامت ہے اور اس ثقافتی ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔














