نوجوان فارغ التحصیل افراد کے لیے زندگی کے اس مرحلے میں کیریئر کا انتخاب اکثر ایک پیچیدہ اور دباؤ والا مرحلہ ہوتا ہے جس کی مختلف وجوہات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی کا پیشہ ورانہ تعلیم کا موقع: پاکستانی طلبہ کیسے اپلائی کر سکتے ہیں؟
ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ وہ وقت ہے جب وہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں آگے کیا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ذاتی زندگی کے فیصلے بھی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔
تعلیمی دور ختم، ملازمت کا خوف شروع
جو طلبہ ابھی حال ہی میں گریجویشن کرچکے ہیں یا جلد کرنے والے ہیں ان کے لیے ملازمت کی دنیا میں قدم رکھنا ایک سنجیدہ مرحلہ ہے۔ چونکہ جاب مارکیٹ غیر متوقع اور سخت مسابقتی ہے اس لیے زندگی کے منصوبے رکھنے والے بھی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
وہ طلبہ جنہیں اپنے کیریئر کے بارے میں واضح سمت نہیں معلوم انہیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مزید پڑھیے: جیمنی پرو: گوگل کی پاکستانی طلبہ کو شاندار مفت پیشکش
دونوں گروپ اکثر ایک ہی مسئلے سے دوچار ہوتے ہیں۔ زیادہ تر انٹری لیول نوکریاں نوجوان فارغ التحصیل افراد کی توقعات کے مطابق معاوضہ فراہم نہیں کرتیں۔
کم تنخواہ اور محدود مواقع
زیادہ تر کمپنیز ابتدائی سطح کی ملازمتوں کے لیے امیدواروں سے پچھلے تجربے کی توقع رکھتی ہیں جس سے مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
علاوہ ازیں مختلف شعبوں میں انٹری لیول جابز کی جگہ مصنوعی ذہانت(یا اے آئی) بھی لے رہی ہے۔
صارفین کے نقطہ نظر سے، فوری طور پر ملازمت شروع کرنے والوں کو کم تنخواہ دینا بعض اوقات سمجھ بوجھ کا فیصلہ ہوتا ہے کیونکہ ہر کام میں سیکھنے کا عمل موجود ہوتا ہے۔
مالی دباؤ اور شہروں میں رہائش
معاشرے میں یہ مفروضہ عام ہے کہ فارغ التحصیل طلبہ کو ان کے خاندان مالی مدد فراہم کرتے ہیں مگر ہر صورت ایسا نہیں ہوتا۔
کئی طلبہ اعلیٰ تعلیم اور ملازمت کے لیے شہروں کا رخ کرتے ہیں جس سے تنہا رہائش اور روزمرہ اخراجات کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: ہر سال کتنے ہزار پاکستانی طلبہ برطانیہ منتقل ہو رہے ہیں؟
کچھ طلبہ تو اپنے خاندان کی مالی معاونت کے ذمہ دار بھی ہوتے ہیں، جس سے کم تنخواہ کے ساتھ گزارا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
تعلیم کے متعلقہ شعبے سے ہٹنا
کم تنخواہوں اور محدود جاب مارکیٹ کی وجہ سے فارغ التحصیل طلبہ اکثر اپنی تعلیم سے غیر متعلق شعبوں میں نوکری تلاش کرتے ہیں۔ انجینئرنگ کے طلبہ کے لیے مقابلہ انتہائی سخت ہوتا ہے اس لیے وہ غیر متعلقہ شعبوں میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
کچھ طلبہ تو یونیورسٹی کے فوراً بعد متعدد نوکریاں بھی کرتے ہیں تاکہ روزگار اور مالی ضروریات پوری ہو سکیں، جس سے ذہنی دباؤ اور تھکن بڑھ جاتی ہے۔
موازنہ اور ذہنی دباؤ
’موازنہ خوشی کا قاتل ہے‘ کا مقولہ ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے مگر ہم اکثر اپنے حالات کا مقابلہ دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی طلبہ نے دنیا کو ’اے آئی‘ میں پیچھے چھوڑ دیا، عالمی سطح پر پذیرائی
انٹری لیول تنخواہ، ملازمت کے فوائد اور کیریئر کے آغاز پر گفتگو اکثر افسردگی اور دباؤ پیدا کرتی ہے اور کم خوش نصیب افراد کے لیے یہ مزید تشویشناک ہو جاتا ہے۔
وقت لے کر قدم بڑھانا ضروری
اگرچہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد آرام کا احساس ہوتا ہے مگر لگتا ہے کہ اگر وقفہ لیا تو پیچھے رہ جائیں گے۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اپنی رفتار سے آگے بڑھنا بالکل ٹھیک ہے۔ اپنے قدم جمانے میں وقت لگے گا اور نتیجہ کچھ بھی ہو مقابلہ یا دباؤ میں خود کو مغلوب نہ ہونے دینا اہم ہے۔














