بنگلہ دیش اور بھارت نے ایک دوسرے کے پانیوں میں گرفتار ہونے والے ماہی گیروں کی باہمی واپسی (ریپٹری ایشن) کا عمل مکمل کر لیا جو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک مربوط انسانی ہمدردی اور سفارتی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اطالوی کمپنی بنگلہ دیش ایئر فورس کو یورو فائٹر ٹائفون ملٹی رول لڑاکا طیارے فراہم کرے گی
سرکاری ذرائع کے مطابق بھارت میں حراست میں رکھے گئے 32 بنگلہ دیشی ماہی گیر اور بنگلہ دیش میں گرفتار 47 بھارتی ماہی گیر آج سہ پہر خلیج بنگال میں بین الاقوامی بحری سرحد پر ایک منظم عمل کے تحت ایک دوسرے کے حوالے کیے گئے۔
اس موقعے پر بھارت کوسٹ گارڈ نے 32 بنگلہ دیشی ماہی گیر بنگلہ دیش کوسٹ گارڈ کے حوالے کیے جبکہ بنگلہ دیش نے بیک وقت 47 بھارتی شہری واپس کیے۔
تبادلے کے دوران بھارت نے بنگلہ دیش کی ایک ماہی گیری کشتی بھی واپس کی جبکہ بنگلہ دیش نے 3 بھارتی کشتیاں لوٹا دیں۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا شیڈول کب جاری ہوگا؟ الیکشن کمیشن نے اعلان کردیا
اسی دوران ایک علیحدہ پیش رفت میں، میگھالیہ، بھارت میں زیرِ حراست چھ بنگلہ دیشی ماہی گیر بھی آج نکوگا¶ن لینڈ پورٹ (ضلع شیرپور) کے ذریعے بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (BGB) کی نگرانی میں وطن واپس لائے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بی جی بی اور بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس (BSF) کے درمیان رابطہ اور کوآرڈی نیشن جاری ہے۔
حکام کے مطابق، یہ کامیاب ریپٹری ایشن کئی اداروں کے قریبی تعاون کا نتیجہ ہے جن میں وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ، وزارتِ ماہی پروری و مویشی پروری، وزارتِ جہاز رانی، بنگلہ دیش کوسٹ گارڈ، بی جی بی، پولیس اور مقامی انتظامیہ شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: آئندہ انتخابات میں بی این پی سب سے زیادہ سیٹیں جیتے گی، جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر ہوگی، سروے
علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے منظم تبادلے دونوں ممالک کے درمیان سمندری اور سرحدی گرفتاریوں سے پیدا ہونے والے تناؤ میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، جو اب بھی ایک بار بار سامنے آنے والا چیلنج ہے۔













