لاہور ہائیکورٹ میں پتنگ بازی سے متعلق آرڈیننس کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، تاہم عدالت نے آرڈیننس پر فوری عملدرآمد روکنے کی درخواست مسترد کر دی۔
درخواست کی سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے کی، جو شہری منیر احمد کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ پتنگ بازی سے متعلق نافذ آرڈیننس کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب پتنگ بازی آرڈیننس 2025 اسمبلی میں پیش؛ دھاتی ڈور پر مکمل پابندی
سماعت کے دوران جسٹس ملک اویس خالد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پتنگ بازی کی ابتدا چین میں تقریباً ڈھائی ہزار سال قبل ہوئی اور آج بھی دنیا کے مختلف ممالک میں کائٹ فلائنگ کی جاتی ہے، تاہم اس سرگرمی میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔
عدالت نے سرکاری وکیل سے سوال کیا کہ بتایا جائے پتنگ بازی کے دوران شہریوں کی سلامتی کو کس طرح ریگولیٹ کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کا بنیادی مؤقف بھی یہی ہے کہ سیفٹی کے مؤثر انتظامات ناگزیر ہیں۔
مزید برآں عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ وہ یہ وضاحت کریں کہ بسنت جیسے تہوار کو کس انداز میں محفوظ طریقے سے ریگولیٹ کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے سرکاری وکیل کو 22 دسمبر تک متعلقہ حکام سے ہدایات لے کر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور میں بسنت کا 3 روزہ تہوار 6 سے 8 فروری 2026 تک منعقد ہوگا، عظمیٰ بخاری کی تصدیق
دوسری طرف پنجاب حکومت نے 18 سال بعد تاریخی بسنت میلے پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ لاہور میں 3 روزہ بسنت فیسٹیول 6 سے 8 فروری 2026 تک منعقد ہوگا۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ یہ فیسٹیول مکمل طور پر محفوظ، منظم اور سخت نگرانی میں ہوگا، جبکہ کسی بھی قسم کے جانی نقصان کو روکنے کے لیے سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔
پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور بھر میں 25 سال بعد بسنت کے تاریخی و ثقافتی تہوار کے احیا کی منظوری دے دی ہے۔ ان کے مطابق یہ روایت اپنی تاریخی جڑوں کی وجہ سے دنیا بھر میں سراہي جاتی رہی ہے۔














