ملٹری کورٹ سے 14 سال قید کی سزا پانے والے ریٹائرڈ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید پر ریٹائرمنٹ کے بعد خفیہ سرکاری دستاویزات رکھنے کا بھی الزام ہے، جو انہوں نے بغیر اجازت اپنے پاس رکھی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:جنرل فیض حمید کو سزا، کیا عمران خان بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں؟
سینیئر صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق سابق فیض حمید کے خلاف 4 الزامات پر مقدمہ چلایا گیا، جن میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، سرکاری راز کے قانون کی خلاف ورزی جو ریاستی سلامتی کے لیے نقصان دہ تھی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور افراد کو غیر قانونی نقصان پہنچانا، شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خفیہ دستاویزات رکھنے کا الزام سرکاری راز کے قانون کے تحت ہے، اور یہ دستاویزات ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے قبضے میں تھیں، جنہیں رکھنے کی انہیں اجازت نہیں تھی۔ سیاسی سرگرمیوں کے الزام کا تعلق سابق جنرل کے سیاسی شخصیات سے روابط سے ہے، جن میں زیادہ تر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان شامل تھے۔

اس کے علاوہ سابق جنرل پر ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے معاملے میں اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کر کے پیسہ وصول کرنے کا بھی الزام تھا۔ اس کیس کی بنیاد ہاؤسنگ سوسائٹی کے موجودہ چیف ایگزیکٹو کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست تھی۔
درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ 12 مئی 2017 کو پاکستان رینجرز اور آئی ایس آئی نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے دفاتر اور مالک کے گھر پر چھاپہ مارا اور سونا، ہیرے، نقدی اور دیگر قیمتی اشیاء قبضے میں لیں، اور سابق جنرل نے شکایت کنندہ سے یہ اشیاء واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا۔
یہ بھی پڑھیں:فیض حمید کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے معافی کی اپیل؟ عمران خان کے فوجی ٹرائل پر سوالات؟
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ سابق جنرل کے قریبی رشتہ دار اور آئی ایس آئی کے ریٹائرڈ بریگیڈیئرز نے شکایت کنندہ پر دباؤ ڈال کر 4 کروڑ روپے نقدی اور نجی ٹی وی نیٹ ورک کے چند ماہ کے لیے اسپانسرشپ کا مطالبہ کیا۔ تاہم سپریم کورٹ نے درخواست گزار کو متعلقہ فورمز، بشمول وزارت دفاع، سے رجوع کرنے کا حکم دیا۔














