اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ کے مزید 2 گواہوں کے بیانات قلمبند کر لیے گئے۔
مزید پڑھیں: ثنا یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات پر فرد جرم عائد، ملزم کا صحت جرم سے انکار
کیس کی کارروائی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی، جبکہ سرکاری وکیل راجہ نوید حسین عدالت میں موجود تھے۔
دفاع کے وکلا کی جانب سے آج گواہوں پر جرح نہیں کی جا سکی۔ جبکہ سماعت کے دوران عدالت نے ملزم عمر حیات پر ناجائز اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں بھی فردِ جرم عائد کردی۔
اب تک کیس میں مجموعی طور پر 16 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ عدالت نے آئندہ سماعت 20 دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ رواں برس 2 جون کو اسلام آباد میں 17 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کو ان کے گھر میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔
اس واقعے کا مقدمہ مقتولہ کی والدہ فرزانہ یوسف کی درخواست پر سمبل پولیس اسٹیشن میں دفعہ 302 کے تحت درج کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے ملزم عمر حیات کو گرفتار کر لیا تھا۔
مزید پڑھیں: ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات کا اعترافی بیان سامنے آگیا
ثنا یوسف سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں، ان کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر قریباً 8 لاکھ جبکہ انسٹاگرام پر لگ بھگ 5 لاکھ فالوورز موجود تھے۔














