جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں گلا سڑا نظام نوجوانوں کو مایوس کر رہا ہے۔ نظام کی تبدیلی کے لیے مؤثر اور طاقت ور آواز اٹھنی چاہیے۔
پنجاب کے شہر وزیرآباد میں الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے بلاسود قرض فراہمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں 44 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: سرکاری ملازمین کے لیے بُری خبر، حکومت نے آئی ایم ایف کا اہم مطالبہ مان لیا
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت کئی اسکیمیں چل رہی ہیں، لیکن غربت ختم نہیں ہو رہی۔ اگر نوجوانوں کو آئی ٹی کے کورسز کرائے جائیں تو وہ مختلف شعبوں میں کام کر سکتے ہیں۔
تقریب میں امیر جماعت اسلامی نے 112 افراد میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 12 لاکھ روپے کے بلاسود قرضے تقسیم کیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ ملک میں ہر شعبے میں طبقاتی نظام بڑھ رہا ہے اور بے نظیر انکم جیسے پروگرام صرف سیاسی مفاد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پڑوسی ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں یوریا کھاد کی قیمتیں کئی گنا زیادہ ہیں اور حکومت نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم نہیں کر رہی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک کے نوجوان تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہیں اور موجودہ نظام انہیں مایوس کر رہا ہے۔ فارم 47 کے نظام میں چند طاقتور افراد مسلط ہوتے جا رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے وزیرآباد کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس طاقتور نظام کے خلاف متحد ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ بنو قابل پروگرام کے تحت نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم دی جا رہی ہے اور اب تک ایک لاکھ سے زیادہ نوجوان اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ حکمران بڑے قرضے لیتے ہیں اور معاف کروا لیتے ہیں، جبکہ ان کے پروگرام کے تحت قرض لینے والے 99 فیصد افراد ادائیگی کر دیتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کرپٹ مافیا کے خلاف متحد ہو کر کوشش کرنا ضروری ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ نوجوانوں کے لیے چھوٹے کورسز کروائے جائیں گے تاکہ وہ خود روزگار حاصل کر سکیں، جبکہ خواتین کے لیے دستکاری کے پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ گھر بیٹھے کمائی کر سکیں۔ خواتین کو مارکیٹنگ ٹولز بھی سکھائے جائیں گے تاکہ اپنے مصنوعات فروخت کر سکیں۔
مزید پڑھیں: سماجی ترقی و غربت کے خاتمے پر عالمی اتفاق، دوحہ سیاسی اعلامیہ منظور
انہوں نے یہ بھی کہاکہ نوجوانوں کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے تاکہ وہ کھیلوں میں بھی آگے بڑھ سکیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ یہ پاکستان طاقتوروں کا نہیں بلکہ ہمارے نوجوانوں اور عوام کا پاکستان ہے، اور بلدیاتی نظام میں پنجاب میں ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کی جا رہی ہے۔














