پنجاب حکومت کے ستھرا پنجاب پراجیکٹ کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، اور برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق تاریخ میں پہلی بار کسی برطانوی شہر کے والنٹیئرز گروپ نے صفائی کے لیے پنجاب سے رہنمائی حاصل کی ہے۔
بی بی سی رپورٹ کے مطابق برطانوی شہر برمنگھم میں اُبلتے کوڑے دانوں اور بار بار ہڑتالوں کے مسئلے کے حل میں ’ستھرا پنجاب‘ ماڈل مؤثر ثابت ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: صاف ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت اب کتنا صفائی ٹیکس دینا ہوگا؟
بی بی سی کے مطابق پنجاب کا ویسٹ مینجمنٹ پلان دنیا بھر کے اداروں کے لیے قابل تقلید مثال بن چکا ہے۔ کوپ 30 میں پاکستان پویلین پر ستھرا پنجاب پروگرام کی تفصیلات پیش کی گئی تھیں جبکہ عالمی جریدے بلوم برگ نے بھی ستھرا پنجاب ویسٹ ٹو ویلیو پروجیکٹ کو اہم منصوبہ قرار دیا تھا۔
بلوم برگ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت جدید ویسٹ مینجمنٹ اور صاف توانائی کے اقدامات بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

بلوم برگ کے مطابق مرکزی پنجاب میں 50 میگاواٹ کے جدید پاور پلانٹ کے لیے ابتدائی فزیبیلٹی اسٹڈی جاری ہے، جو ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت روزانہ جمع ہونے والے فضلے سے توانائی پیدا کرے گا۔ اس منصوبے کی تخمینی لاگت 175 ملین ڈالر سے 180 ملین ڈالر کے درمیان ہے اور یہ پلانٹ روزانہ تقریباً 3,000 ٹن فضلہ توانائی میں تبدیل کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’ستھرا پنجاب‘، عید الاضحیٰ پر صفائی کا مؤثر انتظام، عملے کے لیے نقد انعام کا اعلان
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ستھرا پنجاب پروگرام پورے صوبے میں 150,000 سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے اور روزانہ تقریباً 50,000 ٹن فضلہ جمع کر رہا ہے، یہ منصوبہ سالانہ تقریباً 300 ارب روپے صوبے کی معیشت میں ماحولیاتی طور پر دوستانہ سرگرمیوں کے ذریعے حصہ ڈال رہا ہے۔ بائیو فیول، بائیو گیس کی پیداوار اور لینڈ فل سائٹس کو سولر پارکس میں تبدیل کرنے کے کام بھی جاری ہیں۔
بلوم برگ رپورٹ میں ستھرا پنجاب پروگرام کو جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے ویسٹ مینجمنٹ اقدامات میں سے ایک قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد پرانے اور غیر مربوط میونسپل نظام کو جدید اور مربوط ماڈل سے تبدیل کرنا ہے۔

پروگرام نے ڈور ٹو ڈور فضلہ جمع کرنے، مکینیکل سویپنگ، ویسٹ ٹرانسفر اسٹیشنز، اور جدید کمپیکشن سسٹمز متعارف کروا کر لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی اور ملتان سمیت بڑے شہروں میں صفائی کے معیار کو بہتر بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کے حکم پر صوبے میں ’صاف ستھرا پنجاب‘ مہم کا آغاز
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد فضلے کو بوجھ سے اقتصادی وسائل میں تبدیل کرنا ہے، جس کے لیے صاف توانائی، ری سائیکلنگ، کمپوسٹنگ، اور لینڈ فل ری ہیبیلیٹیشن کو فروغ دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس پروگرام کی وسعت مزید بڑھائی جائے گی۔














