چین کی نیشنل ہیلتھ کیئر سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے مطابق حکومت آئندہ سال سے زچگی سے متعلق جیب سے ادا کیے جانے والے تمام طبی اخراجات برداشت کرے گی۔
یہ اقدام نوجوان جوڑوں کو بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین: تمام تر حکومتی سہولیات کے باوجود چینی مزید بچے پیدا کرنے کو تیار نہیں، کیوں؟
انتظامیہ نے بتایا کہ 2026 تک چین کا ہدف یہ ہے کہ زچگی سے متعلق تمام پالیسی کے تحت آنے والے طبی اخراجات کی ملک بھر میں مکمل ادائیگی کی جائے، جن میں حمل کے دوران طبی معائنے یعنی پری نیٹل چیک اپ بھی شامل ہوں گے۔
China has announced an ambitious plan to make childbirth essentially free for parents under national insurance guidelines by 2026. #XinhuaNews pic.twitter.com/qM9VVq5Eul
— China Xinhua News (@XHNews) December 14, 2025
سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے حمل کے دوران طبی معائنوں کے اخراجات کی کوریج بہتر بنائی جائے گی اور اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ زچگی کے عمل میں ’کوئی ادائیگی جیب سے نہ ہو۔‘
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بیجنگ حکومت ملک میں مسلسل کم ہوتی آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: چینی جوڑے کے ہاں سنہری بالوں اور نیلی آنکھوں والی ’روسی‘ بچی کی پیدائش کا حیران کن واقعہ
چین کی آبادی میں 2022 میں کئی دہائیوں بعد پہلی بار کمی آئی تھی اور یہ رجحان 2024 تک جاری رہا۔
ماہرین آبادیات کے مطابق شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی کے باعث یہ رجحان آئندہ بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افرادی قوت میں کمی اور بزرگ آبادی میں اضافے سے پہلے ہی مقروض مقامی حکومتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
چین میں شرحِ پیدائش میں کمی کی ایک بڑی وجہ 1980 سے 2015 تک نافذ رہنے والی ایک بچے کی پالیسی رہی ہے، جب کہ تیز رفتار شہری ترقی بھی اس کی ایک وجہ ہے۔
مزید پڑھیں: دنیا میں زچگی کی اموات میں اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟
بچوں کی نگہداشت اور تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات، روزگار میں غیر یقینی صورتحال اور سست ہوتی معیشت نے بھی نوجوانوں کو شادی اور خاندان شروع کرنے سے دور رکھا ہے۔
چین کے کچھ صوبوں، جن میں جیلن، جیانگ سو اور شینڈونگ شامل ہیں، پہلے ہی ایسے اقدامات متعارف کرا چکے ہیں جن کے تحت زچگی کے اخراجات تقریباً مفت کر دیے گئے ہیں۔

چین نے مارچ میں کہا تھا کہ وہ تیزی سے بڑھتی بزرگ آبادی اور نوجوانوں سے متعلق مسائل پر ’فعال‘ پالیسیوں کے ذریعے ردِعمل دے گا، جن میں بچوں کی نگہداشت کے لیے سبسڈیز اور پری اسکول تعلیم کو مفت بنانا شامل ہے۔
اس سے قبل بھی حکام زچگی کی رخصت میں توسیع، مالی و ٹیکس سہولتوں اور رہائشی سبسڈیز کے ذریعے جوڑوں کو بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے کی کوشش کر چکے ہیں۔














