سڈنی میں حملہ آور کو روکنے والے احمد پر انعامات کی بارش

پیر 15 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

سڈنی کے علاقے بانڈی بیچ میں دہشت گرد حملے کے دوران ایک مسلح حملہ آور کو قابو کرنے والے پھلوں کی دکان کے مالک احمد الاحمد کے لیے جمع کیے جانے والے عطیات ایک ملین ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔

43 سالہ احمد الاحمد کو اتوار کے روز ہونے والے ہولناک حملے کے دوران بہادری کا مظاہرہ کرنے پر حقیقی ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس وقت مداخلت کی جب ایک یہودی تقریب میں شریک ہجوم پر فائرنگ کی گئی۔ حکام کے مطابق احمد الاحمد کے بروقت اقدام سے درجنوں جانیں بچ گئیں۔

یہ بھی پڑھیے: حملہ آور کو کیوں روکا؟ سڈنی واقعے کے ہیرو احمد نے اہم وجہ بتادی

ان کے اعزاز میں شروع کی گئی کراؤڈ فنڈنگ مہم کے تحت چند ہی گھنٹوں میں 1.17 ملین ڈالر (تقریباً 6 لاکھ پاؤنڈ) سے زائد رقم جمع ہو چکی ہے۔

ارب پتی ہیج فنڈ مینیجر بل ایک مین سب سے بڑے عطیہ دہندہ رہے، جنہوں نے 99 ہزار 999 ڈالر عطیہ کیے اور اس فنڈ ریزر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر بھی شیئر کیا۔

پولیس کے مطابق یہ حملہ ایک مخصوص ہدف کو نشانہ بنانے کی کارروائی تھی، جس میں کم از کم 15 افراد جان سے گئے جبکہ ایک حملہ آور بھی مارا گیا۔ واقعے میں مزید 40 افراد زخمی ہوئے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سفید ٹی شرٹ پہنے احمد الاحمد ایک گاڑی کے پیچھے جھکے ہوئے تھے اور فائرنگ میں وقفہ آتے ہی حملہ آور پر جھپٹ پڑے۔ انہوں نے پیچھے سے حملہ آور کو جکڑ لیا اور اس کے ہاتھ سے رائفل چھین لی۔

یہ بھی پڑھیے: سڈنی: یہودیوں کی تقریب میں فائرنگ، ہلاکتوں کی تعداد 16ہوگئی

2 بچوں کے والد احمد الاحمد، جو سڈنی کے علاقے سدرلینڈ میں رہائش پذیر ہیں، بدستور اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

ان کے اہلِ خانہ کے مطابق، فائرنگ کے دوران بازو اور ہاتھ میں لگنے والی گولیوں کے باعث ان کا آپریشن کیا گیا ہے۔

نیوساؤتھ ویلز کے وزیرِاعلیٰ کرس منِز نے بھی اسپتال میں احمد الاحمد کی عیادت کی۔

احمد الاحمد کے والد محمد فتح الاحمد نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ میرا بیٹا ایک ہیرو ہے۔ اس نے پولیس میں خدمات انجام دی ہیں اور لوگوں کی حفاظت کا جذبہ اس کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد ایم او یوکی تائید، مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان، سعودی عرب، مصراور ترکیہ متحد، ریجنل۔4 اجلاس کا اعلامیہ جاری

ایران لبنان میں اپنی پراکسیز کو فوری روکے ورنہ سخت جواب دیں گے، صدر ٹرمپ کی وارننگ

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث امریکا ایران مذاکرات ممکن ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف

لائیوپاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا سوئٹزرلینڈ میں آغاز

ویڈیو

اسلام آباد ایم او یوکی تائید، مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان، سعودی عرب، مصراور ترکیہ متحد، ریجنل۔4 اجلاس کا اعلامیہ جاری

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟