خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے یوتھ رہنما شفیع اللہ جان نے خبردار کیا ہے کہ عمران خان کو خاندان سے مشاورت کے بغیر جیل سے منتقل کرنے کے خلاف سخت احتجاج ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو دنیا کے کسی بھی کونے میں بھی منتقل کر دیا جائے تو وہاں بھی جیل کے باہر احتجاج ہوگا۔
پشاور میں وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں شفیع اللہ جان نے عمران خان کی جیل سے ممکنہ منتقلی، گورنر راج کی خبروں، سہیل آفریدی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے کوششوں اور موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کی۔
مزید پڑھیں: ’اڈیالہ پہنچو‘: پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے اہم ہدایات جاری
’عمران خان جہاں کہیں بھی جیل میں ہوں گے، وہاں احتجاج ہوگا‘
شفیع اللہ جان نے کہاکہ اگر عمران خان کو فیملی کی مشاورت کے بغیر کہیں اور منتقل کیا گیا تو اس کا سخت ردعمل آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی منتقلی کے حوالے سے کچھ خبریں گردش کررہی ہیں۔
’اگر ان کا یہ خیال ہے کہ مچھ یا پنجاب کی کسی اور جیل میں منتقل کرنے سے احتجاج نہیں ہوگا تو یہ ان کی بھول ہے۔ مچھ تو پاکستان میں ہے، دنیا کے کسی اور کونے میں بھی منتقل کیا گیا تو وہاں بھی جیل کے باہر اسی طرح احتجاج ہوگا۔‘
ترجمان خیبر پختونخوا حکومت نے کہاکہ عمران خان ملک کے سب سے مقبول لیڈر ہیں اور اوورسیز پاکستانی بھی ان سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر عمران خان کو کسی دوسرے ملک میں بھی منتقل کیا گیا تو وہاں اوورسیز پاکستانی اسی طرح احتجاج کریں گے۔
شفیع اللہ جان نے کہاکہ عمران خان کی رہائی تک احتجاج جاری رہے گا اور وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
’سہیل آفریدی تیار ہیں، احتجاجی تحریک کی کال محمود خان اچکزئی دیں گے‘
شفیع اللہ جان نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی عمران خان کی رہائی کے لیے سرگرم ہیں اور ان کی تیاری مکمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی مختلف اضلاع میں جلسے کر رہے ہیں اور کارکنوں کو فعال کیا جا رہا ہے۔ اتوار کے روز کوہاٹ میں بڑا جلسہ کیا گیا۔
’یہ جلسے احتجاج کی تیاری ہیں، سہیل آفریدی کو بس کال کا انتظار ہے‘
انہوں نے کہاکہ عمران خان نے احتجاجی تحریک شروع کرنے کے حوالے سے فیصلہ سازی کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب بھی احتجاج کی کال دی جائے گی، سہیل آفریدی سب سے آگے ہوں گے۔
کیا سہیل آفریدی بے اختیار ہیں؟
جب شفیع اللہ جان سے پوچھا گیا کہ احتجاج کی تیاری کی ذمہ داری سہیل آفریدی کے پاس ہے جبکہ فیصلے کا اختیار محمود خان اچکزئی کے پاس کیوں ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو جگہ نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے عمر ایوب کے پاس اختیارات تھے لیکن انہیں نااہل کر دیا گیا۔ اگر عمران خان کا سہیل آفریدی پر اعتماد نہ ہوتا تو وہ آج وزیراعلیٰ نہ ہوتے۔ ’عمران خان کا سہیل آفریدی پر سب سے زیادہ اعتماد ہے‘
’گورنر راج لگا تو گورنر ہاؤس کا محاصرہ ہوگا‘
شفیع اللہ جان نے کہاکہ وفاق صوبے میں گورنر راج لگانے کا سوچ بھی نہیں سکتا، لگانا تو دور کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نے اپنی اصلاح کا فیصلہ کرلیا، عمران خان سے ملاقاتیں روکنا مسئلے کا حل نہیں، بیرسٹر گوہر
انہوں نے بتایا کہ گورنر راج کی صورت میں پشاور میں گورنر ہاؤس کا محاصرہ کیا جائے گا، اور ہم اس سسٹم کو جام کر دیں گے۔













