پاکستان کے مختلف مکاتب فکر کے علما و مشائخ اور مذاہب کے قائدین کے مشترکہ اجلاس میں سانحہ اے پی ایس کی برسی کے موقع پر معصوم بچوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے انتہا پسندی، دہشتگردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے کے لیے ریاست پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا اعلان کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی علما و مشائخ کانفرنس میں سپہ سالار فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی طرف سے وطن عزیز پاکستان کے حوالے سے پیش کیے جانے والے امور پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
مزید پڑھیں: قومی علما و مشائخ کانفرنس میں پاک فوج سے بھرپور اظہارِ یکجہتی، عسکری قیادت کو خراجِ تحسین
مسلم علما و مشائخ نے جمعۃ المبارک کو ہندوستان میں اقلیتوں پر بالخصوص مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور آسٹریلیا میں ہونے والی دہشتگردی کے خلاف یوم مذمت منانے کا اعلان کیا۔
چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی زیر صدارت جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور میں ہونے والے اجلاس میں فادر جیمز چنن، ڈاکٹر مجید ایبل، سردار گیان سنگھ، مولانا عاصم مخدوم، مولانا اسداللہ فاروق نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ مولانا اسلم صدیقی، پیر خلیل احمد، ڈاکٹر بدر صیفی، علامہ طاہر الحسن، حافظ مقبول احمد، مولانا محمد اشفاق پتافی، مفتی عمر فاروق، قاری عبدالحکیم اطہر، مولانا مبشر رحیمی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں مولانا محمد ابراہیم حنفی، حافظ احتشام الحق، صوفی اسلام الدین عثمانی، قاری فیصل امین اور دیگر نے بھی شرکت کی۔
اجلا س کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تمام مسالک و مذاہب کے قائدین نے سانحہ اے پی ایس کے شہدا کو خراج تحسین پیش کیا اور دہشتگردی اور انتہا پسند ی کے خاتمے کے لیے ریاست پاکستان، افواج پاکستان اور سلامتی کے اداروں کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
قائدین نے کہاکہ پاکستان کی سلامتی، دفاع اور استحکام کے لیے ہم سب ایک ہیں۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ ہندوستان عالمی دہشتگردی کا مرکز بن چکا ہےاور ہندوستان کی طرف سے مسلسل بیرونی دنیا میں دہشتگردی اور اندرونی طور پر اقلیتوں کے ساتھ مظالم اب کسی سے مخفی نہیں ہیں۔
’گذشتہ روز بہار کے وزیر اعلیٰ کی طرف سے ایک مسلمان خاتون کا حجاب اتارنا اور اس کے ساتھ بدتمیزی کرنا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ہندوستان ہندواتوا نظریے کے تحت ہندوستان میں موجود اقلیتوں کے ساتھ ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔‘
اعلامیہ میں کہا گیا کہ ہندوستان میں مسلمان، مسیحی، سکھ، نچلی ذات کے ہندو اور موجودہ حکومت سے اتفاق نہ کرنے والے ہندوستانی دہشت گردی، بربریت اور وحشت کا نشانہ بن رہے ہیں۔
اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ اسلامی تعاون تنظیم، اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو ہندوستان کی بربریت اور وحشت کے خلاف فوری اقدامات اٹھانے چاہییں۔
قائدین نے کہاکہ ہندوستان کی ریاست کی سرپرستی میں دہشتگردی ہو رہی ہے اور آسٹریلیا میں ہونے والی دہشتگردی کے واقعات کا بھی تعلق ہندوستان کے ساتھ نکل رہا ہے۔
قائدین کے مطابق تمام مذاہب امن، محبت اور رواداری کا درس دیتے ہیں اور اسلام امن سلامتی واعتدال کا دین ہے۔ آسٹریلیا میں جو کچھ ہوا ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور جس نوجوان نے انسانوں کو محفوظ کرنے کے لیے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دہشتگردوں کو روکا اس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہم آسٹریلیا کی عوام اور حکومت کے ساتھ ہیں۔
مزید پڑھیں: آرمی چیف نے علماء و مشائخ سے کیا کہا؟ طاہر اشرفی نے بتا دیا
قائدین نے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف افواج پاکستان اور سلامتی کے اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔













