ٹرمپ نے مزید 7 ممالک پر مکمل سفری پابندی عائد کر دی، شام بھی شامل

بدھ 17 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز مکمل سفری پابندی کے شکار ممالک کی فہرست میں توسیع کرتے ہوئے مزید 7 ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ نئی فہرست میں شام بھی شامل ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک صدارتی اعلامیے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد اُن ممالک کے شہریوں پر داخلے کی پابندیوں کو ’وسعت اور مزید سخت‘کرنا ہے جو اسکریننگ، جانچ پڑتال (ویٹنگ) اور معلومات کے تبادلے میں ’مسلسل، سنگین اور واضح خامیوں‘ کے حامل ہیں، تاکہ امریکا کو قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے خطرات سے بچایا جا سکے۔

نئے فیصلے کے تحت برکینا فاسو، مالی، نائجر، جنوبی سوڈان، شام اور فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ سفری دستاویزات رکھنے والے افراد کے امریکا میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لاؤس اور سیرالیون پر بھی مکمل پابندی نافذ کر دی گئی ہے، جو اس سے قبل صرف جزوی پابندیوں کی زد میں تھے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ توسیع شدہ سفری پابندی یکم جنوری سے نافذ العمل ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے امریکا کا سفری پابندیوں کی فہرست مزید 30 سے زائد ممالک تک بڑھانے کا منصوبہ

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے نومبر میں شامی صدر احمد الشرع سے تاریخی ملاقات کے بعد شام کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ احمد الشرع، جو ماضی میں القاعدہ کے کمانڈر رہ چکے ہیں، حالیہ عرصے تک امریکا کی جانب سے غیر ملکی دہشتگرد قرار دیے جانے والوں کی فہرست میں شامل تھے۔

صدر ٹرمپ نے احمد الشرع کی حمایت کی ہے، جنہوں نے ایک غیر معمولی سیاسی سفر کے بعد طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والے آمر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹایا۔ اس کے بعد وہ عالمی سطح پر دورے کر کے خود کو ایک معتدل رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو جنگ سے تباہ حال ملک کو متحد کرنا اور دہائیوں پر محیط عالمی تنہائی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

تاہم گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں ’انتہائی سخت جوابی کارروائی‘ کا عندیہ دیا، جب شام میں ایک مشتبہ داعش حملہ آور کے حملے میں 2 امریکی فوجی اور ایک سویلین مترجم ہلاک ہو گئے۔ حملہ آور نے امریکی اور شامی افواج کے قافلے کو نشانہ بنایا، جس کے بعد اسے ہلاک کر دیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں اس واقعے کو ’خوفناک‘ قرار دیا۔

وائٹ ہاؤس نے شام پر سفری پابندی کی ایک وجہ ویزا کی مدت سے زیادہ قیام (اوور اسٹے) کی بلند شرح کو بھی قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’شام طویل خانہ جنگی اور اندرونی بدامنی کے دور سے نکل رہا ہے۔ اگرچہ ملک امریکا کے ساتھ قریبی تعاون سے اپنے سکیورٹی مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم شام کے پاس پاسپورٹ یا شہری دستاویزات جاری کرنے کے لیے مؤثر مرکزی نظام موجود نہیں، اور نہ ہی مناسب اسکریننگ اور جانچ پڑتال کے انتظامات ہیں۔‘

جزوی پابندیوں کی فہرست میں مزید ممالک کا اضافہ

صدر ٹرمپ جون میں پہلے ہی 12 ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر چکے تھے، جبکہ 7 دیگر ممالک پر جزوی پابندیاں نافذ کی گئی تھیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق ان 12 ممالک پر مکمل سفری پابندی بدستور برقرار رہے گی۔ یہ پابندیاں تارکین وطن کے ساتھ ساتھ غیر تارکین وطن، مثلاً سیاحوں، طلبہ اور کاروباری افراد پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔

علاوہ ازیں صدر ٹرمپ نے مزید 15 ممالک پر جزوی پابندیاں اور داخلے کی اضافی شرائط عائد کی ہیں، جن میں نائجیریا بھی شامل ہے۔ نائجیریا اس وقت امریکی انتظامیہ کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے، جہاں صدر ٹرمپ نے نومبر کے اوائل میں عیسائیوں کے ساتھ مبینہ سلوک پر فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی تھی۔ تاہم نائجیریا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دعوے ملک کی پیچیدہ سکیورٹی صورتحال کی غلط تصویر کشی کرتے ہیں اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو نظر انداز کرتے ہیں۔

جنوری میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ نے امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کو ترجیح دی ہے، جس کے تحت بڑے امریکی شہروں میں وفاقی ایجنٹس تعینات کیے گئے اور امریکا میکسیکو سرحد پر پناہ کے متلاشی افراد کو واپس بھیجا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا تمام تیسری دنیا کے ممالک سے امریکا ہجرت روکنے کا اعلان

یہ تازہ سفری پابندیاں گزشتہ ماہ واشنگٹن ڈی سی میں 2 نیشنل گارڈ اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد امیگریشن پالیسی میں مزید سختی کی کڑی سمجھی جا رہی ہیں۔

تفتیش کاروں کے مطابق یہ فائرنگ ایک افغان شہری نے کی، جو 2021 میں ایک آبادکاری پروگرام کے تحت امریکا آیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا مؤقف ہے کہ اس پروگرام کے تحت آنے والوں کی مناسب جانچ پڑتال نہیں کی گئی تھی۔

فائرنگ کے واقعے کے چند روز بعد صدر ٹرمپ نے تمام ’تیسری دنیا کے ممالک‘ سے ہجرت کو ’مستقل طور پر روکنے‘ کا اعلان کیا، تاہم انہوں نے نہ تو کسی مخصوص ملک کا نام لیا اور نہ ہی اس اصطلاح کی وضاحت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ کا کولمبو میں آج سے باقاعدہ آغاز، پاکستان اور نیدرلینڈ مدمقابل ہونگے

دہشتگردی کے بڑھتے واقعات پر شاہد آفریدی کا شدید ردعمل

عازمینِ حج کے لیے اہم اطلاع، سعودی ویزہ بائیو میٹرک کے آخری 2 دن باقی

پی ایس ایل کی نئی فرنچائز حیدرآباد نے اپنے کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کردیا

سانحہ اسلام آباد کے بعد لاہور میں سکیورٹی ہائی الرٹ، سی سی پی او لاہور نے خصوصی ہدایات جاری کردیں

ویڈیو

اسلام آباد امام بار گاہ میں خود کش دھماکا بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ کی میڈیا سے گفتگو

امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟

لاہور میں بسنت کے تہوار پر تاریخی جشن

کالم / تجزیہ

پاکستان کا پیچا!

’کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو‘

مغربی تہذیب کا انہدام!