ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار راجا نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز میں بتایا کہ رواں برس مجموعی طور پر 51 ہزار پاکستانی مسافروں کو مختلف وجوہات کی بنا پر آف لوڈ کیا گیا۔ ان میں سے 24 ہزار سعودی عرب، 6 ہزار دبئی، اور 2,500 آذربائیجان سے آف لوڈ ہوئے۔
مزید پڑھیں: 55 آف لوڈ مسافروں کو ٹکٹ کی رقم واپس کیوں نہیں ملی؟
ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق گزشتہ سال غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے پاکستانیوں کی تعداد 8 ہزار تھی، جو اس سال کم ہو کر 4 ہزار رہ گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آف لوڈنگ دستاویزات، ڈیٹا اور آن لائن ویریفکیشن کی بنیاد پر کی جاتی ہے، اور اکثر مسافروں کے پاس یونیورسٹی، کورس یا ملازمت سے متعلق مکمل معلومات نہیں ہوتیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال سعودی عرب نے بھیک مانگنے کے الزام میں 56 ہزار پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا۔ کمبوڈیا جانے والے 24 ہزار افراد میں سے 12 ہزار اب تک واپس نہیں آئے، جبکہ برما سیاحتی ویزے پر جانے والے 4 ہزار میں سے 2,500 افراد واپس نہیں لوٹے۔
مزید پڑھیں: کراچی سے بیرون ملک جاتے ہوئے 35 مسافر کیوں آف لوڈ ہوئے؟
ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ گزشتہ برس پاکستان غیر قانونی یورپ سفر میں ٹاپ فائیو ممالک میں شامل تھا، تاہم مؤثر پالیسیوں کے باعث اب پاکستان اس فہرست سے باہر ہو چکا ہے۔ دبئی اور جرمنی نے پاکستانی سرکاری پاسپورٹ پر ویزہ فری سہولت فراہم کی ہے۔
رواں سال 85 لاکھ پاکستانی بیرون ملک گئے جبکہ 226 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ گزشتہ 3 ماہ میں ایران بارڈر کے ذریعے غیر قانونی سفر کی کوشش کرنے والے 450 افراد کو گرفتار کیا گیا۔














