قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام کو بتایا گیا ہے کہ حکومت سرکاری افسران کے لیے ’بیپ‘ (BEEP) نامی ایک محفوظ میسجنگ ایپ لانچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جو چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ کی طرز پر تیار کی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس منگل کو ایم این اے سید امین الحق کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیصل اقبال رتیال نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ’بیپ‘ ایپ تیار ہے اور اس کا مقصد سرکاری ملازمین کے لیے ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد مواصلاتی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: واٹس ایپ ہیک ہونے پر صارفین کیا کریں؟ سائبر کرائم ایجنسی نے اہم ہدایات جاری کردیں
انہوں نے بتایا کہ ’بیپ‘ ایپ میں ویڈیو کمیونیکیشن سمیت اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کی سہولت موجود ہوگی، جس کے باعث یہ حساس سرکاری معاملات پر گفتگو کے لیے موزوں ہوگی۔ آپریشنل اخراجات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایپ استعمال کی بنیاد پر فیس ماڈل کے تحت چلائی جائے گی اور مستقبل میں اسے مالی طور پر خود کفیل بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ ایپ جون 2026 تک متعارف کرائی جائے گی۔
وفاقی سیکریٹری آئی ٹی نے واضح کیا کہ ایپ سے آمدن حاصل کرنا بنیادی مقصد نہیں بلکہ ریاستی اداروں کے درمیان محفوظ، مؤثر اور قابلِ اعتماد رابطہ اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت میٹا کی ملکیت واٹس ایپ کا بے تحاشا استعمال ہو رہا ہے، تاہم اس کے ڈیٹا سرورز پاکستان میں موجود نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: واٹس ایپ اپ ڈیٹس: سخت ترین سیکیورٹی سیٹنگز کا نیا آپشن بھی شامل
اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی کوالٹی آف سروس رپورٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں موبائل سگنلز پر 99 فیصد اطمینان کا دعویٰ زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ تمام اراکین نے متفقہ طور پر رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بار بار انٹرنیٹ کی سست روی اور کمزور موبائل سگنلز پی ٹی اے کے دعوؤں کی نفی کرتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے پی ٹی اے سے سوال کیا کہ اس نوعیت کے سروے کس طریقہ کار کے تحت کیے جاتے ہیں اور مطالبہ کیا کہ آئندہ کوالٹی آف سروس کے سروے آزاد اور تیسرے فریق کے ذریعے کرائے جائیں تاکہ شفافیت اور اعتماد کو یقینی بنایا جا سکے۔
کمیٹی نے یاد دہانی کرائی کہ اس نے پہلے ہدایت کی تھی کہ 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی پاکستانی روپے میں کی جائے اور قیمتیں غیر ضروری طور پر زیادہ مقرر نہ کی جائیں۔ کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ اگر ٹیلی کام آپریٹرز کو کسی قسم کی رعایت یا سہولت دی جائے تو اسے نیٹ ورک اور انفراسٹرکچر کی بہتری سے مشروط کیا جائے۔














