امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی مسلح افواج کی خدمات اور قربانیوں کے اعتراف میں امریکیوں کو خصوصی نقد رقم دینے کا اعلان کیا ہے، جسے انہوں نے واریئر ڈیویڈنڈ کا نام دیا ہے۔ اس ادائیگی کو انہوں نے امریکا کے قیام کے سال 1776 سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں 14 لاکھ 50 ہزار سے زائد فوجی اہلکاروں کو کرسمس سے قبل 1,776 ڈالر فی کس دیے جائیں گے۔
قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ٹیرف اور حال ہی میں منظور ہونے والے بڑے اور خوبصورت بل کی بدولت، آج رات مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ 14 لاکھ 50 ہزار سے زائد فوجی اہلکاروں کو کرسمس سے پہلے ایک خصوصی ‘واریئر ڈیویڈنڈ’ دیا جائے گا۔ یہ ادائیگی ہماری ملک کے قیام کے سال 1776 کے اعزاز میں ہے۔ ہم ہر فوجی کو 1,776 ڈالر بھیج رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف وار: امریکا کو متعدد ممالک کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا
انہوں نے مزید کہا کہ چیکس پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں اور حکومت نے توقع سے زیادہ آمدن حاصل کی ہے۔
’ہم نے ٹیرف کی بدولت توقع سے کہیں زیادہ پیسہ کمایا، اور اس بل نے بھی ہماری مدد کی۔ اس کے سب سے زیادہ حقدار ہمارے فوجی ہیں۔ میں سب کو مبارکباد دیتا ہوں۔‘
واریئر ڈیویڈنڈ کون حاصل کرے گا؟
اس ایک مرتبہ دی جانے والی ادائیگی کے اہل افراد میں شامل ہیں:
وہ ایکٹیو ڈیوٹی فوجی اہلکار جو او-6 یا اس سے کم رینک پر فائز ہیں اور 30 نومبر 2025 تک ایکٹیو ڈیوٹی پر موجود ہوں۔
ریزرو فورس کے وہ ارکان جو 31 دن یا اس سے زائد ایکٹیو ڈیوٹی آرڈرز پر ہوں اور 30 نومبر 2025 تک سروس انجام دے رہے ہوں۔
1776: امریکا کے قیام کی تاریخی اہمیت
4 جولائی 1776 کو فلاڈیلفیا میں کانٹی نینٹل کانگریس نے اعلانِ آزادی کو باضابطہ طور پر منظور کیا، جس کا مسودہ بنیادی طور پر تھامس جیفرسن نے تیار کیا تھا۔ اس دستاویز میں 13 امریکی کالونیوں کے برطانیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا گیا اور فرد کی آزادی اور خودمختار حکومت کے اصول بیان کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے ’ ٹیرف ہٹائے تو امریکا مالی طور پر تباہ ہوجائے گا‘، ٹرمپ نےامریکی عدالت کا فیصلہ مستردکر دیا
اگرچہ آزادی کا فیصلہ 2 جولائی 1776 کو منظور ہوا تھا، لیکن 4 جولائی کو علامتی طور پر امریکا کے قیام کا دن مانا جاتا ہے اور یہی دن اب قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اسی تاریخی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوجیوں کے لیے 1,776 ڈالر کی ادائیگی کا اعلان کیا۔
ٹیرف، ہاؤسنگ اصلاحات اور بارڈر سیکیورٹی
صدر ٹرمپ کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عوامی سروے کے مطابق ان کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے، خاص طور پر مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹیرف کے نتیجے میں قیمتیں بڑھی ہیں اور روزگار کی رفتار سست ہوئی ہے۔
صدر نے دعویٰ کیا کہ وہ امریکا کی تاریخ کے سب سے جارحانہ ہاؤسنگ اصلاحاتی منصوبے پیش کریں گے، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
انہوں نے امیگریشن پالیسی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر بے دخلی (ڈی پورٹیشن) کا بالواسطہ ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جرائم پیشہ افراد کو ملک سے نکال رہی ہے، اگرچہ آزاد تجزیوں کے مطابق غیر مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد بھی بے دخل کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے افغان شہری کی فائرنگ سے زخمی خاتون نیشنل گارڈ ہلاک، غیرقانونی تارکین وطن امریکا کیلیے خطرہ بنتے جارہے ہیں، ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کی سخت امیگریشن پالیسی کے نتیجے میں امریکا کے بعض خطرناک شہروں میں امن و امان بہتر ہوا ہے۔
مہنگائی پر براہ راست بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اصرار کیا کہ ان کے لگائے گئے ٹیرف کامیاب ثابت ہو رہے ہیں اور جلد مزید فوائد سامنے آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میرا پسندیدہ لفظ ’ٹیرف‘ ہے، جس سے مراد وہ محصولات ہیں جو چین، کینیڈا، میکسیکو اور دیگر تجارتی شراکت دار ممالک کی مصنوعات پر عائد کیے گئے ہیں۔
بائیڈن اور ڈیموکریٹس پر سخت تنقید
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنی حکومت کی کامیابیوں کو اجاگر کیا اور سابق صدر جو بائیڈن اور ڈیموکریٹک پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ نسبتاً مختصر مگر انتخابی مہم کے انداز میں کی گئی اس تقریر میں ٹرمپ نے کہا کہ اقتدار میں واپسی کے بعد صرف ایک سال کے دوران ان کی انتظامیہ نے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ڈپلومیٹک ریسیپشن روم میں، جہاں کرسمس ٹری اور کرسمس کی سجاوٹ آویزاں تھی، صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے امریکا کو بدحالی سے نکال کر بے مثال کامیابی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔ ہم ایک ایسے معاشی عروج کے دہانے پر کھڑے ہیں جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا جلد ہی اعلانِ آزادی کی 250ویں سالگرہ منانے جا رہا ہے اور ان کے بقول، اس تاریخی موقع پر سب سے بہترین خراجِ تحسین یہی ہوگا کہ امریکا کی وہ واپسی مکمل کی جائے جس کا آغاز ایک سال قبل ہوا تھا۔
معاشی خدشات اور جنگ کے سائے
یہ خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں معاشی بے چینی اور ممکنہ جنگ کے خدشات پائے جا رہے ہیں، اگرچہ صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ان موضوعات کو محدود انداز میں چھیڑا۔ ایک روز قبل بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا میں بے روزگاری کی شرح ستمبر 2021 (کورونا وبا کے دور) کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
اسی دوران، کیریبین میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ جاری ہے، جبکہ منگل کے روز صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل بردار جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کا حکم بھی دیا۔
بائیڈن دور پر سخت تنقید
18 منٹ پر مشتمل خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں جو امریکا وراثت میں ملا وہ ’انتشار کا شکار‘ تھا، جہاں مہنگائی، بلند قیمتیں، غیر قانونی امیگریشن، ناقابلِ برداشت اخراجات، جرائم، سنسرشپ اور سماجی مسائل عام تھے۔ انہوں نے ٹرانسجینڈر خواتین کے خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے اور ’ہر کسی کے لیے ٹرانسجینڈر ایجنڈا‘ کو بھی سابق حکومت کی ناکامی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کا تمام تیسری دنیا کے ممالک سے امریکا ہجرت روکنے کا اعلان
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ سب کچھ بائیڈن انتظامیہ نے ہمارے ملک کے ساتھ ہونے دیا، لیکن اب ایسا دوبارہ کبھی نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بائیڈن کے دور میں امریکا دنیا بھر میں مذاق بن چکا تھا، لیکن اب ایسا نہیں رہا۔
’دنیا ہم پر ہنس رہی تھی، لیکن اب وہ نہیں ہنس رہے۔‘
تاریخی تبدیلیوں کا دعویٰ
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 11 مہینوں میں انہوں نے واشنگٹن میں اتنی مثبت تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں جتنی امریکی تاریخ میں کسی بھی انتظامیہ نے نہیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، اور میرا خیال ہے کہ زیادہ تر لوگ اس بات سے اتفاق کریں گے۔
بارڈر پالیسی پر فخر
انہوں نے سابق صدر جو بائیڈن پر طنز کرتے ہوئے کہا ’کیا آپ کو یاد ہے جب جو بائیڈن کہتے تھے کہ بارڈر بند کرنے کے لیے کانگریس کی قانون سازی ضروری ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں قانون سازی کی نہیں، ہمیں صرف ایک نئے صدر کی ضرورت تھی۔‘
صدر ٹرمپ کے اس خطاب کو آئندہ صدارتی انتخابی مہم کا ابتدائی اشارہ بھی قرار دیا جا رہا ہے، جس میں وہ اپنی کامیابیوں کو بنیاد بنا کر مخالفین پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔














