بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان 28 ماہ سے جیل میں قید ہیں، عمران خان کے خلاف مقدمات کا ٹرائل بھی جیل میں ہی ہو رہا ہے، جیل میں ملاقات کے لیے ہفتے میں 2 دن متعین ہیں۔ منگل کو عمران خان کی فیملی اور وکلا جبکہ جمعرات کے روز سیاسی قیادت کی جیل میں ملاقات کرائی جاتی ہے۔
گزشتہ ماہ 4 نومبر کے بعد سے عمران خان سے کسی کی بھی ملاقات نہیں کرائی جا رہی تھی جس کے بعد 2 دسمبر کو عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی بھائی سے ملاقات کرائی گئی، البتہ اب حکومت نے ان کی ملاقات پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔
مزید پڑھیں: ’اڈیالہ پہنچو‘: پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے اہم ہدایات جاری
اڈیالہ جیل کی رپورٹنگ کرنے والے سینیئر صحافی شبیر ڈار نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے ان کی تین بہنیں اور پارٹی کے سینیئر رہنما منگل اور جمعرات کو اڈیالہ جیل کا رخ کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں تو سیاسی رہنماؤں اور بہنوں سے عمران خان کی ملاقات کرا دی جاتی تھی تاہم گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی، ملاقات نہ ہونے کے باعث پی ٹی آئی کارکنان، متعدد رہنما اور عمران خان کی بہنیں اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیتے ہیں اور گزشتہ 2 مرتبہ سے پولیس واٹر کینن کا استعمال کرکے پی ٹی آئی کارکنان اور عمران خان کی بہنوں کو دھرنے کی جگہ سے منتشر کرتی ہے۔
شبیر ڈار کے مطابق اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے 2 سے 4 بجے تک کا وقت ہوتا ہے، عمران خان کی بہنیں اور رہنما ملاقات کرنے کے لیے دن 2 بجے اڈیالہ جیل پہنچتے ہیں اور پھر انتظار کرتے ہیں کہ ان کو 4 بجے تک ملاقات کے لیے بلا لیا جائے۔
’عمران خان کی بہنوں اور کارکنوں کو فیکٹری ناکے پر ہی روک لیا جاتا ہے‘
’عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنان کے آتے ہی پولیس اہلکار اڈیالہ جیل کے قریب ایک کلومیٹر کے فاصلے پر فیکٹری ناکے پر تمام کارکنان اور عمران خان کی بہنوں کو روک لیتے ہیں۔ ماضی میں تو علیمہ خان پولیس والوں کے ساتھ کچھ گفتگو کرتی تھیں اور اگر اجازت نہیں ملتی تو واپس چلی جاتی تھیں تاہم اب وہ دھرنا دے دیتی ہیں۔
شبیر ڈار نے کہاکہ عمران خان کے ساتھ ملاقات کے لیے صرف عمران خان کی بہنیں اور ان کے ساتھ چند لوگ آتے ہیں جبکہ سیاسی رہنماؤں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب ملاقاتیں ہوتی تھیں تو اس وقت صرف 70 سے 80 لوگ اڈیالہ جیل کے باہر موجود ہوتے تھے تاہم اب جب سے دھرنا شروع ہوا ہے اور پولیس کی جانب سے واٹر کینن کا استعمال کیا جاتا ہے، یا عمران خان کی بہنوں کو حراست میں لے کر چکری روڈ پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ان واقعات کے بعد سے اب وہاں 2 سے 3 ہزار کارکنان موجود ہوتے ہیں، لیکن ان میں بیشتر کارکنان کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہوتا ہے۔
شبیر ڈار کے مطابق علیمہ خان اور عمران خان کی دیگر بہنیں اڈیالہ جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر موجود ہوتی ہیں، اور خود کارکنان کے ساتھ گفتگو کرتی ہیں۔ چونکہ دھرنے کا وقت زیادہ ہو جاتا ہے تو کھانے پینے کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ کارکنان کو بھی 2 سے 3 مرتبہ کھانا فراہم کیا گیا ہے جبکہ زیادہ تر خیبر پختونخوا سے آنے والے کارکنان اپنے ساتھ خود کھانا لے کر اتے ہیں اور وہاں موجود دھرنے کے شرکا کو بھی کھانا کھلاتے ہیں۔
’انتظامیہ جیل کے اطراف دکانیں اور ریسٹورینٹس بند کرا دیتی ہے‘
’اس کے علاوہ وہاں پر دکانیں اور ریسٹورنٹ بھی موجود ہیں تو لوگ وہاں پر بھی کھانا کھا لیتے ہیں، البتہ گزشتہ دو تین مرتبہ سے پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے دکانیں اور ریسٹورنٹس کو بند کرا دیا جاتا ہے۔‘
شبیر ڈار نے بتایا کہ اڈیالہ جیل کے باہر موجود کارکنان میں سے بیشتر کی تعداد خیبر پختونخوا سے ہوتی ہے۔ تاہم اب پنجاب کے کارکنان کو بھی وہاں بلایا جاتا ہے اور منگل کے روز ہونے والی ملاقات کے دن میانوالی، سرگودھا، گجرات اور لاہور سے کارکنان کو بلایا گیا تھا اور ان کارکنان نے دھرنے میں شرکت کی تھی، کارکنان کی وڈیوز بھی بنائی گئی تھیں تاکہ قیادت کو آگاہ کیا جا سکے کہ کون کون آیا ہے۔
مزید پڑھیں: امن و امان کی صورت حال پیدا ہوئی تو عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی پر غور ہو سکتا ہے، رانا ثنااللہ
شبیر ڈار کے مطابق عمران خان کی بہنوں کے علاوہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت دھرنے میں شرکت نہیں کرتی جبکہ جو رہنما شرکت کرتے بھی ہیں وہ گھنٹے یا 2 گھنٹوں کے لیے آتے ہیں، تصویریں، ویڈیوز بناتے ہیں، کارکنان سے خطاب کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔
’البتہ جب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اڈیالہ جیل آتے ہیں تو صوبے کی قیادت ان کے ہمراہ ہوتی ہے اور وہ رات گئے تک دھرنے میں موجود رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا یا دیگر عہدیداران دھرنے میں زیادہ دیر بیٹھے نظر نہیں آتے۔‘














