سوڈان کے مشرقی حصے میں عسکریت پسندوں کی جانب سے ڈرون حملے کے بعد کئی ریاستوں میں شدید بلیک آؤٹ ہو گیا، جب ایک اہم پاور اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد ہلاک ہو گئے۔ فوجی ذرائع کے مطابق یہ حملے نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے کیے گئے۔
اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری جنگ میں دسیوں ہزار افراد ہلاک، لاکھوں بے گھر اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی سوڈان میں اقوامِ متحدہ کے امن فوجیوں پر حملے کی شدید مذمت
پورٹ سوڈان کے ایک سرکاری عہدیدار عبدالرحیم الامین کے مطابق جمعرات کے روز ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے پاور پلانٹ پر ڈرون حملوں کے بعد سے بجلی مکمل طور پر بند ہے اور حکام بحالی کی کوششوں میں مصروف ہیں، قومی بجلی کمپنی کے مطابق حملوں کے باعث متعدد ریاستوں میں بلیک آؤٹ ہوگیا ہے۔
#Sudan Electricity Company announced that the Al-Mogran–Atbara power station was attacked today, Thursday, by drones belonging to the Janjaweed militia, backed by the UAE, resulting in the martyrdom of two Civil Defense personnel. The attack also caused direct damage to power… pic.twitter.com/vyCcT0OSN3
— Sudan News 🇸🇩 (@Sudan_tweet) December 18, 2025
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ دریائے نیل اسٹیٹ کے شہروں اتبرا، الدامر اور بربر پر 35 ڈرونز داغے گئے، جن میں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ اتبرا میں المقریں پاور اسٹیشن کے ٹرانسفارمرز پر حملے کیے گئے، جہاں آگ اور دھوئیں کے مناظر دیکھے گئے۔
پاور اسٹیشن کے ایک عہدیدار کے مطابق ابتدائی حملے کے بعد امدادی کارکنوں پر دوسرا حملہ کیا گیا، جس میں 2 امدادی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ صوبائی حکومت نے بھی امدادی کارکنوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوڈان میں شہید ہونے والے بنگلہ دیشی فوجی اہلکاروں کی تفصیل جاری
یہ پاور اسٹیشن سوڈان کے بجلی کے نظام کا اہم مرکز ہے، جہاں سے ملک کے سب سے بڑے آبی بجلی منصوبے میروے ڈیم کی بجلی مختلف علاقوں کو فراہم کی جاتی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دریائے نیل اور بحیرہ احمر کے کنارے واقع کئی علاقوں میں بلیک آؤٹ پھیل چکا ہے۔
ایمرجنسی لائرز نامی تنظیم کے مطابق اتبرا میں فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک کمسن بچی جاں بحق اور 4 افراد زخمی بھی ہوئے۔ قومی بجلی کمپنی نے بتایا کہ پاور اسٹیشن میں آگ تاحال بجھائی جا رہی ہے۔
ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے تاحال حملوں پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق سوڈان کی جنگ دنیا کا بدترین انسانی بحران بن چکی ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں عام شہریوں کے خلاف تشدد میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوڈان کے تیل، سونے و دیگر قدرتی وسائل پر قابض کون؟
ادھر سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان بحران کے حل پر بات چیت کے لیے قاہرہ روانہ ہوئے، جہاں مصری قیادت سے ملاقات متوقع ہے۔














