170 ملین امریکی صارفین کے لیے خوشخبری سامنے آگئی ہے جس کے بعد غالب امکان ہے کہ اب امریکا میں ٹک ٹاک بند نہیں ہوگا۔
چینی کمپنی بائٹ ڈانس، جو ٹک ٹاک کی مالک ہے، نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے 3 بڑے سرمایہ کاروں کے ساتھ بائنڈنگ معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں، جن کے تحت ٹک ٹاک کی امریکی ایپ چلانے کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ (جوائنٹ وینچر) قائم کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد امریکی حکومت کی ممکنہ پابندی سے بچنا ہے، اور اسے کئی برسوں سے جاری غیر یقینی صورتحال کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ معاہدہ اس مختصر ویڈیو ایپ کے لیے ایک سنگِ میل ہے، جسے 170 ملین سے زائد امریکی باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں۔
ٹک ٹاک کے خلاف کشمکش کا آغاز اگست 2020 میں ہوا تھا، جب اُس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار ایپ پر پابندی لگانے کی ناکام کوشش کی تھی۔
ستمبر میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق تفصیلات
معاہدے کی تفصیلات ستمبر میں سامنے آنے والے منصوبے سے ہم آہنگ ہیں، جب صدر ٹرمپ نے اس قانون پر عمل درآمد 20 جنوری تک مؤخر کر دیا تھا، جس کے تحت ٹک ٹاک پر پابندی عائد ہونا تھی اگر چینی مالکان امریکی اثاثے فروخت نہ کرتے۔ ٹرمپ نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ یہ معاہدہ 2024 کے قانون کے تحت درکار اثاثوں کی فروخت (Divestiture) کی شرائط پر پورا اترتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹک ٹاک نے پاکستان میں چھوٹے کاروبار کی تشہیر کے لیے نیا فیچر متعارف کرا دیا
ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شو زی چو نے ملازمین کو ایک یادداشت میں بتایا ’ہم نے سرمایہ کاروں کے ساتھ ایک نئے ٹک ٹاک یو ایس جوائنٹ وینچر کے معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں، جس سے 170 ملین سے زائد امریکی ایک متحرک عالمی کمیونٹی کے حصے کے طور پر لامحدود امکانات دریافت کرتے رہیں گے۔‘
ملکیت کا نیا ڈھانچہ
معاہدے کے تحت امریکی اور عالمی سرمایہ کار 80.1 فیصد حصص کے مالک ہوں گے۔ جبکہ بائٹ ڈانس 19.9 فیصد حصص اپنے پاس رکھے گی۔
شو زی چو کے مطابق، نیا جوائنٹ وینچر ایک آزاد ادارے کے طور پر کام کرے گا، جسے امریکی ڈیٹا کے تحفظ، الگورتھم کی سیکیورٹی، مواد کی نگرانی اور سافٹ ویئر کی جانچ کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔
اگرچہ سوالات بدستور موجود
وائٹ ہاؤس نے ستمبر میں کہا تھا کہ نیا جوائنٹ وینچر ٹک ٹاک کی امریکی ایپ چلائے گا، تاہم معاہدے سے متعلق کئی سوالات ابھی باقی ہیں۔
اس کے باوجود، شو زی چو نے واضح کیا کہ ٹک ٹاک کے عالمی امریکی ذیلی ادارے عالمی سطح پر مصنوعات کے باہمی انضمام اور بعض تجارتی سرگرمیوں، جیسے ای کامرس، اشتہارات اور مارکیٹنگ، کا انتظام جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیے ٹک ٹاک کا امریکی آپریشن امریکیوں کے کنٹرول میں ہوگا، وائٹ ہاؤس
کمپنی نے بتایا کہ بائٹ ڈانس اور ٹک ٹاک نے 3 مرکزی سرمایہ کاروں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔
اوریکل (Oracle)، سلور لیک (Silver Lake)، ابوظبی کی سرمایہ کاری کمپنی MGX
ان کے اشتراک سے نیا ادارہ TikTok USDS Joint Venture LLC قائم کیا گیا ہے۔
یادداشت کے مطابق، اوریکل، سلور لیک اور MGX مجموعی طور پر نئے ادارے کے 45 فیصد حصص کے مالک ہوں گے، جس کی تصدیق ستمبر میں رائٹرز اور دیگر ذرائع کر چکے تھے۔
سیاسی ردعمل اور تنقید
ڈیموکریٹک سینیٹر الزبتھ وارن نے معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ لوگ کیا دیکھیں اور کیا نہ دیکھیں، وہ اس پر مزید کنٹرول اپنے ارب پتی دوستوں کو دینا چاہتے ہیں۔ امریکی عوام کو حق ہے کہ وہ جانیں آیا صدر نے ٹک ٹاک پر قبضے کے لیے کوئی خفیہ سودا کیا ہے یا نہیں۔
حتمی ملکیتی تناسب
یادداشت کے مطابق 50 فیصد حصص نئے سرمایہ کاروں کے کنسورشیم کے پاس ہوں گے (اوریکل، سلور لیک اور MGX کو 15، 15 فیصد)
30.1 فیصد حصص بائٹ ڈانس کے بعض موجودہ سرمایہ کاروں سے وابستہ اداروں کے پاس ہوں گے۔
19.9 فیصد حصص بائٹ ڈانس کے پاس رہیں گے۔
ڈیٹا سیکیورٹی اور الگورتھم کنٹرول
2024 کے قانون کے مطابق، بائٹ ڈانس کو 19 جنوری تک ٹک ٹاک کے امریکی اثاثے فروخت کرنا لازم تھا، ورنہ ایپ بند ہو جاتی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے 20 جنوری کو دوسری مدتِ صدارت شروع کرتے ہوئے اس قانون پر عمل درآمد نہیں کیا۔
ستمبر میں جاری صدارتی حکم کے مطابق ٹک ٹاک کا الگورتھم امریکی کمپنی کے سیکیورٹی شراکت داروں کی نگرانی میں دوبارہ تربیت پائے گا۔ الگورتھم کا مکمل کنٹرول نئے جوائنٹ وینچر کے پاس ہوگا۔
نئے ادارے کے 7 رکنی بورڈ میں بائٹ ڈانس ایک رکن نامزد کرے گی، جبکہ اکثریت امریکی اراکین پر مشتمل ہوگی۔
اوریکل کا کردار
اوریکل کو ’قابلِ اعتماد سیکیورٹی شراکت دار‘ مقرر کیا گیا ہے، جو امریکی صارفین کے حساس ڈیٹا کے تحفظ، قواعد کی پاسداری کی جانچ اور ڈیٹا کو امریکا میں اوریکل کے محفوظ کلاؤڈ ماحول میں ذخیرہ کرنے کی ذمہ داری سنبھالے گا۔
ماہرین کی رائے
ہبر ریسرچ پارٹنرز کے تجزیہ کار کریگ اے ہوبر کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر مجھے کسی ریگولیٹری رکاوٹ کی توقع نہیں، خاص طور پر اس لیے کہ وفاقی حکومت اور صدر ٹرمپ ابتدا ہی سے اس معاہدے کی تشکیل میں شامل رہے ہیں۔













