ڈھاکہ یونیورسٹی میں کچھ طالب علم رہنماؤں کی جانب سے شیخ مجیب الرحمان ہال کا نام تبدیل کر کے اسے ’شہید عثمان ہادی ہال‘ رکھنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد یونیورسٹی میں بحث اور بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:طالبعلم رہنما عثمان ہادی کی میت بنگلہ دیش پہنچ گئی، رقت آمیز مناظر
بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق طلبہ نے رات گئے ہال کے مرکزی دروازے پر ایک بڑا بینر لگا دیا، جس پر لکھا تھا کہ یہ ہال اب ’شہید عثمان ہادی ہال‘ کہلائے گا۔ اس واقعے کے بعد معاملہ تیزی سے میڈیا اور انتظامیہ کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
رپورٹس کے مطابق ہال یونین کے نائب صدر محمد مسلم الرحمان کا کہنا ہے کہ عثمان ہادی بھارتی اثرات کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے مارے گئے تھے، اس لیے انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہال کا نام تبدیل کیا جانا ضروری ہے۔

یونین کے جنرل سیکریٹری ال صباح کا کہنا ہے کہ اس مطالبے پر طلبہ سے دستخط بھی لیے گئے اور اکثریت نے نام کی تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد، ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ
طالب علم رہنما چاہتے ہیں کہ اگلی یونیورسٹی سندیکیٹ میٹنگ کے ایجنڈے میں نام کی تبدیلی کو شامل کیا جائے تاکہ اس فیصلے کو سرکاری طور پر منظور کرایا جا سکے۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس بارے میں کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا۔













