بنگلہ دیش کو ایسے شواہد ملے ہیں جو طالب علم رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد ملزمان کے بھارت فرار سے ’بھارت لنک‘ کے خدشات بڑھاتے ہیں۔ پولیس کا شبہ ہے کہ مرکزی ملزم فیصل کریم مسعود اور موٹر سائیکل ڈرائیور عالمگیر شیخ حملے کے فوراً بعد بھارت کی طرف نکل گئے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی دہشتگردی کا شکار بنگلہ دیشی طالب علما رہنما عثمان ہادی کون تھا؟
تفتیش کاروں کے مطابق ملزمان نے ’مائم سنگھ‘ کے ’ہالواگھاٹ بارڈر‘ روٹ سے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزمان میرپور سے نجی گاڑی میں روانہ ہوئے، اشولیا کے راستے غازی پور پہنچے، پھر ایک اور گاڑی میں ہالواگھاٹ کے قریب پٹرول پمپ تک گئے، جہاں سے ایک مقامی شخص نے انہیں موٹر سائیکل پر بارڈر ایریا تک پہنچایا۔ سہولت کار کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
Inna lillahi wa inna illaihi raji'un.
We lost him the one who knew no fear. We couldn't save him; our intelligence failed us.
We failed to protect the man who always spoke the truth.💔#UsmanHadi #Bangladesh pic.twitter.com/DSyfFgbIGN
— 𝚃ɑ𝔯ⅈ𝖓✮🇧🇩🇵🇸 (@Tarin_71) December 18, 2025
ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق غیر قانونی بارڈر کراسنگ کے شبہ میں شیرپور کے نالیتاباری سے 2 افراد کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کی گئی ہے۔ وزارتِ خارجہ نے بھارتی ہائی کمشنر پرنئے ورما کو طلب کر کے واضح مطالبہ کیا ہے کہ اگر ملزمان بھارت میں داخل ہوئے ہیں تو انہیں گرفتار کر کے بنگلہ دیش کے حوالے کیا جائے۔
پولیس کے مطابق عثمان ہادی پر فائرنگ فیصل نے کی، جبکہ عالمگیر کو ’چھاترا لیگ‘ کا کارکن قرار دیا گیا ہے۔ حملے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل کے مالک کو بھی گرفتار کر کے ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے، اور فرار کی لاجسٹکس، رابطوں اور پشت پناہی کی کڑیاں کھنگالی جا رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بارڈر روٹ، گاڑیوں کی تبدیلی اور فوری انخلا سب ایک منظم ’ایسکیپ چین‘ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ڈھاکہ حکومت کا دو ٹوک مؤقف ہے کہ قاتلوں کے لیے کسی بھی ملک کی سرزمین سیف ہیون نہ بنے، اور بھارت سے عملی تعاون اور حوالگی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق اس پیشرفت سے سفارتی دباؤ اور عوامی غصہ بڑھ رہا ہے، اور ملزمان کی گرفتاری اور واپسی اب اصل امتحان بن چکی ہے۔














