وزیرِ اطلاعات کا انتباہ: مصنوعی ذہانت اور تخلیقی روزگار کا مستقبل

ہفتہ 20 دسمبر 2025
author image

طلحہ الکشمیری

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جب وزیرِ اطلاعاتِ پاکستان، عطا اللہ تارڑ صاحب نے ایک مختصر مگر معنی خیز پیغام کے ذریعے تخلیقی شعبوں سے وابستہ افراد کے مستقبل پر سوال اٹھایا، تو یہ محض ایک ٹویٹ نہیں تھا، بلکہ ایک ریاستی سطح کا فکری اشارہ تھا۔

ان کا یہ کہنا کہ مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے مواد تخلیق کرنے والے، ڈیزائنرز، تخلیقی ہدایت کار، اداکار، ماڈلز اور تکنیکی ماہرین عدمِ تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں، دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں تخلیق اور مشین کے درمیان تعلق ازسرِنو متعین ہو رہا ہے۔

یہ سوال کسی ایک صنعت تک محدود نہیں۔ یہ نہ صرف اشتہار سازی یا میڈیا کا مسئلہ ہے، نہ ہی محض ٹیکنالوجی کا۔ یہ سوال کام، قدر، اور انسانی تخلیق کی حیثیت کا ہے۔ یہی وہ جوہر ہے جسے وزیرِ اطلاعات نے چھوا ہے، اور جس پر اب سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے۔

اسی مقام پر یہ پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ تخلیقی شعبہ آج محض فکری یا ثقافتی سرگرمی نہیں رہا، بلکہ ایک اہم معاشی ستون بن چکا ہے۔ لاکھوں نوجوان، فری لانسرز، اور خودمختار پیشہ ور افراد اپنی روزی روٹی اسی تخلیقی معیشت سے وابستہ کر چکے ہیں۔

اگر مصنوعی ذہانت کے باعث یہ شعبہ بے ضابطہ، غیر محفوظ اور کم قدر ہو گیا، تو اس کے اثرات صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ روزگار، زرمبادلہ، اور شہری معیشت کے پورے توازن کو متاثر کریں گے۔ یوں یہ مسئلہ محض ثقافتی نہیں، بلکہ قومی معاشی استحکام سے بھی جڑ جاتا ہے۔

دنیا بھر میں، ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتیں، ایک ہی حقیقت کا سامنا کر رہی ہیں: مصنوعی ذہانت نے ان کاموں کو سب سے پہلے نشانہ بنایا ہے جو تکرار، رفتار اور کم لاگت پر مبنی تھے۔ تخلیقی شعبہ اس لیے متاثر ہوا کہ اس کے کئی حصے، وقت کے ساتھ، خیال سے زیادہ پیداوار پر مرکوز ہو گئے۔ اب مشین وہی پیداوار زیادہ تیزی سے کر سکتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ مشین تخلیقی ہو گئی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے تخلیق کو کہاں محدود کر دیا تھا۔

یہ صورتحال خاص طور پر نوجوان تخلیق کاروں کے لیے ایک سماجی اور نفسیاتی چیلنج بھی بن رہی ہے۔ جب ایک نوجوان خود کو قابلِ متبادل، غیر ضروری یا غیر محفوظ محسوس کرتا ہے، تو اس کا اثر صرف آمدن پر نہیں پڑتا، بلکہ شناخت، اعتماد اور سماجی وابستگی پر بھی پڑتا ہے۔

اگر ریاست اس طبقے کو یہ پیغام دینے میں ناکام رہی کہ اس کی تخلیق اور مہارت کی قدر باقی ہے، تو مایوسی، ذہنی دباؤ اور ہجرت جیسے رجحانات میں اضافہ بعید از قیاس نہیں۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں ریاست کا کردار ناگزیر ہو جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کیا مصنوعی ذہانت کو روکا جا سکتا ہے؛ وہ نہیں روکی جا سکتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اس تبدیلی کی قیادت کرے گی، یا اسے بے رحم منڈی کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گی؟ تاریخ گواہ ہے کہ جو ریاستیں تبدیلی کی قیادت کرتی ہیں، وہی اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔

وزیرِ اطلاعات کی اپیل کو اگر گہرائی میں پڑھا جائے، تو وہ دراصل تخلیقی افرادی قوت کو بچانے کی بات نہیں کر رہے، بلکہ اس کی ازسرِنو تشکیل کا اشارہ دے رہے ہیں۔ آج کا مواد تخلیق کرنے والا صرف لکھنے والا نہیں رہا؛ اسے بیانیہ سمجھنا ہے، سماجی اثر جانچنا ہے، اور ذمہ داری لینا ہے۔ آج کا ڈیزائنر محض خاکے بنانے والا نہیں، بلکہ شناخت کا معمار ہے۔ آج کا اداکار یا ماڈل صرف کیمرے کے سامنے موجودگی نہیں، بلکہ ایک ایسا اثاثہ ہے جس کی آواز، چہرہ اور تاثر ڈیجیٹل دنیا میں بھی تحفظ مانگتا ہے۔

یہاں ایک اہم قانونی پہلو بھی ابھرتا ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت کسی فنکار کے انداز، آواز یا بصری شناخت کی نقل کرے، تو اس تخلیق کا مالک کون ہوگا؟ اگر قوانین خاموش رہے، تو ڈیجیٹل سرقہ اور غیر مجاز نقل جیسے مسائل تخلیق کار کو سب سے کمزور فریق بنا دیں گے۔ اس لیے یہ معاملہ صرف پالیسی کا نہیں، بلکہ قانونی انصاف اور ڈیجیٹل حقوق کا بھی ہے۔

یہیں ریاستی پالیسی کی ضرورت سامنے آتی ہے۔ حکومت کو تخلیق کی جگہ خود کام کرنے کی ضرورت نہیں، مگر اسے قواعد بنانے ہوں گے۔ ڈیجیٹل چہروں اور آوازوں کے استعمال کے لیے واضح اجازت نامے، سرکاری منصوبوں میں انسانی تخلیق کی لازمی شمولیت، اور مصنوعی ذہانت کے استعمال میں شفافیت یہ سب ایسے اقدامات ہیں جو نہ مہنگے ہیں، نہ پیچیدہ، مگر ان کا اثر دور رس ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، ثقافتی پہلو کو نظرانداز کرنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت عموما غالب زبانوں اور مرکزی بیانیوں کو فروغ دیتی ہے۔ اگر ریاست نے بروقت مداخلت نہ کی، تو مقامی لہجے، علاقائی کہانیاں اور ثقافتی نزاکتیں دب سکتی ہیں۔ یوں یہ مسئلہ محض روزگار کا نہیں، بلکہ ثقافتی شناخت اور قومی بیانیے کا سوال بھی بن جاتا ہے۔

عالمی سطح پر، وہ ممالک جو اس سمت میں آگے بڑھے، انہوں نے ٹیکنالوجی سے لڑنے کے بجائے اسے نظم میں لایا۔ مشرقِ وسطیٰ میں، خاص طور پر سعودی عرب کی مثال قابلِ غور ہے۔

سعودی عرب میں وژ‎ ن 2030 کے تحت، تخلیقی معیشت کو محض کاروبار نہیں بلکہ قومی شناخت اور نرم طاقت کا حصہ سمجھا گیا۔ وہاں مصنوعی ذہانت کو نہ تو بے لگام چھوڑا گیا، نہ ہی ممنوع بنایا گیا، بلکہ ایسی حکمرانی کے دائرے میں رکھا گیا جہاں آخری ذمہ داری انسان پر ہی عائد ہوتی ہے، جس میں سعودی عرب کی اتھارٹی برائے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت جیسے اداروں نے رہنمائی فراہم کی۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آج کی دنیا میں مواد صرف تفریح نہیں، بلکہ اثر ونفوذ کا ذریعہ ہے۔ فلم، ڈیجیٹل مواد اور بیانیے قومی نرم طاقت کا حصہ ہیں۔ اگر تخلیقی افرادی قوت کمزور ہو گئی، تو ریاست کی آواز بھی عالمی سطح پر مدھم پڑ سکتی ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو یہ معاملہ جغرافیائی سیاست اور قومی اثر سے بھی جڑا ہوا ہے۔

اس تجربے کا سبق پاکستان کے لیے یہ ہے کہ سرمایہ کاری سے پہلے سمت ضروری ہے۔ اگر تخلیقی شعبہ صرف مقامی، کم منافع والی منڈی تک محدود رہے گا، تو ہر نئی ٹیکنالوجی ایک خطرہ بنے گی۔ لیکن اگر اسے عالمی منڈیوں، بین الثقافتی کام، اور برآمدی صلاحیت سے جوڑا جائے، تو یہی ٹیکنالوجی طاقت بن سکتی ہے۔

وزیرِ اطلاعات کی آواز ہمیں تین سطحوں پر سوچنے کی دعوت دیتی ہے۔ فوری سطح پر، ضابطہ اور تحفظ۔ درمیانی سطح پر، تربیت اور مہارت کی نئی تعریف۔ اور طویل المدت سطح پر، تخلیقی معیشت کو قومی حکمتِ عملی کا حصہ بنانا۔ یہ محض پالیسی نہیں، بلکہ ریاستی بصیرت کا سوال ہے۔

آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیرِ اطلاعات نے جس مسئلے کی نشاندہی کی ہے، وہ دراصل پاکستان کے مستقبل سے جڑا سوال ہے۔ مصنوعی ذہانت نہ دشمن ہے، نہ نجات دہندہ۔ اصل فیصلہ یہ ہے کہ ہم اسے کس فہم، کس نظم، اور کس انسانی شعور کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔ اگر اس لمحے کو ضائع نہ کیا گیا، تو یہی تبدیلی پاکستان کے تخلیقی ذہن کو کمزور نہیں، بلکہ کہیں زیادہ مضبوط بنا سکتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈاکٹر طلحہ الکشمیری اقوام متحدہ، پاک عرب تعلقات، انسانی حقوق، جنوبی ایشیا اور پاکستان سے متعلق امور پر حقائق پر مبنی تجزیاتی اور محققانہ تحریریں قلم بند کرتے ہیں، اردو، اور عربی زبان و ادب کے ساتھ گہری مناسبت رکھتے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وینیزویلا پر امریکی حملے کے بعد ’جیک رائن‘ سیریز کا کلپ کیوں وائرل ہوا؟

ریٹائرمنٹ کے بعد لیونل میسی کیا کرنا پسند کریں گے؟ فٹبالر نے خود بتادیا

پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ

پنجاب میں دھند کا راج برقرار، مختلف موٹرویز بند

امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟