سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس 2 میں کل 17 سال قید اور ایک کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان نے عوامی احتجاج کی کال دی ہے۔
مزید پڑھیں: توشہ خانہ کیس 2: عمران خان کی نئی سزا 90 ملین پاؤنڈ کیس کی سزا ختم ہونے کے بعد شروع ہوگی، عطا تارڑ
سابق وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اور بشریٰ بی بی کو مسلسل قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، ملاقات، کتابیں اور ٹی وی تک پر پابندی عائد ہے۔ انہوں نے جیل میں خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بھی تشویش ظاہر کی اور اسے اسلامی روایات اور اخلاقیات کے منافی قرار دیا۔
عمران خان نے اپنے وکلا کو ہدایت دی ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کے لیے عوام کو بھی پیغام دیا اور کہا کہ جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں۔
عدالت نے سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت 7، 7 سال قید کی سزا سنائی، جس کے ساتھ دیگر قانونی جرمانے بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: توشہ خانہ کیس 2 میں سزا: عمران خان کو اب تک کون سے مقدمات میں کتنی قید ہوچکی ہے؟
یاد رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 13 جولائی 2024 کو توشہ خانہ کے ایک اور ریفرنس میں گرفتار کیا گیا تھا، جس میں قیمتی تحائف کی غیر قانونی وصولی اور فروخت کے الزامات شامل تھے۔














