ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک کھرب پتی بننے کے مزید قریب پہنچ گئے ہیں، جب ایک عدالتی فیصلے کے بعد ان کی دولت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
فوربز بلینیئرز انڈیکس کے مطابق ایلون مسک کی مجموعی دولت بڑھ کر 749 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس کے ساتھ ہی وہ 700 ارب ڈالر کی حد عبور کرنے والے دنیا کے پہلے شخص بن گئے ہیں۔ وہ پہلے ہی دنیا کے امیر ترین فرد ہیں اور دولت کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر موجود گوگل کے شریک بانی لیری پیج سے تقریباً 500 ارب ڈالر زیادہ امیر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دولت کمانے کی دوڑ، ایلون مسک نے نیا ریکارڈ اپنے نام کرلیا
یہ اضافہ ڈیلاویئر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں ایلون مسک کے 2018 کے ٹیسلا اسٹاک آپشنز بحال کر دیے گئے، جن کی مالیت 139 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ یہ پیکیج گزشتہ سال ختم کر دیا گیا تھا۔
2018 میں ایلون مسک کو ایک تنخواہی پیکیج دیا گیا تھا، جس میں اس وقت 56 ارب ڈالر مالیت کے اسٹاک شامل تھے، تاہم 2024 میں نچلی عدالت نے اسے ناقابل تصور قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ ٹیسلا کے ڈائریکٹرز مفادات کے ٹکراؤ کا شکار تھے اور شیئر ہولڈرز سے اہم حقائق چھپائے گئے۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ پے پیکیج ختم کیے جانے سے ایلون مسک گزشتہ 6 سال کی محنت کے عوض بغیر معاوضہ رہ گئے تھے، جبکہ نچلی عدالت کا فیصلہ غیر منصفانہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آنے والے وقت میں غربت کا خاتمہ ہوجائے گا، ایلون مسک کا دعویٰ
اگر ایلون مسک 2018 کے تمام اسٹاک آپشنز استعمال کرتے ہیں تو ٹیسلا میں ان کا حصہ تقریباً 12.4 فیصد سے بڑھ کر 18.1 فیصد ہو جائے گا۔ یہ ٹیسلا کی تاریخ کا سب سے بڑا پے پیکیج تھا، تاہم اس سے بھی بڑا پیکیج اس وقت سامنے آیا جب نومبر میں کمپنی نے ایلون مسک کے لیے ایک ٹریلین ڈالر تک مالیت کا نیا معاوضہ منصوبہ منظور کیا۔
ایلون مسک کی بڑھتی ہوئی دولت نے انہیں دنیا کے پہلے ٹریلینیئر بننے کے بالکل قریب لا کھڑا کیا ہے۔














