پی ٹی آئی رہنما عمر ڈار سیالکوٹ میں احتجاجی ریلی سے گرفتار

اتوار 21 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما عمر ڈار کو سیالکوٹ میں احتجاجی ریلی سے گرفتار کرلیا گیا۔

عمر ڈار عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سنائی گئی سزا کے خلاف احتجاجی ریلی میں شریک تھے، جہاں ان کی والدہ ریحانہ ڈار بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

بعد ازاں ریحانہ ڈار نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہاکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جعلی اور جھوٹی سزا کے خلاف آواز اٹھانے پر میرے بیٹے عمر ڈار کو گرفتارکر لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ گرفتاری کسی ایک فرد کے خلاف نہیں، یہ ہر اس آواز کے خلاف ہے جو جعلی فیصلوں، جھوٹے مقدمات اور مسلط کردہ نظام کو چیلنج کرے۔

ریحانہ ڈار نے کہاکہ جب عدالتوں کے فیصلے کمزور ہوں، دلائل ختم ہو جائیں اور سچ سے خوف پیدا ہو جائے تو پھر ہتھکنڈے، گرفتاریاں اور دھمکیاں ہی آخری سہارا رہ جاتی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ظلم کے خلاف احتجاج بغاوت قرار دیا جا رہا ہے لیکن یاد رکھیں کارکنوں کو گرفتار کرنے سے تحریکیں دفن نہیں ہو سکتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ظلم جتنا بڑھاؤ گے، اس کے خلاف مزاحمت اتنی ہی مضبوط ہو گی۔ عمران خان کے ساتھ کھڑے تھے، آج بھی کھڑے ہیں اور ہر قیمت پر کھڑے رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

ایپسٹین کی موت کی وجہ خودکشی کے بجائے قتل ہے، پوسٹ مارٹم کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کا دعویٰ

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت میں پاکستانی اسپنر کا خوف، سابق کرکٹر نے اپنی ٹیم کو اہم مشورہ دیدیا

محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا

امریکا میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش، بھارتی شہری نے اعتراف کرلیا

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟