کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) ہر سال اربوں روپے مالیت کے رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی نیلامی کے ذریعے خطیر رقم حاصل کرتا ہے۔ یہ نیلامیاں نہ صرف اسلام آباد کی تعمیر و ترقی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں بلکہ ملکی معیشت، خصوصاً زرمبادلہ کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم نیلامی کے طریقہ کار، قیمتوں کے تعین اور بعد ازاں بولیوں کی منظوری یا مسترد کیے جانے پر ریئل اسٹیٹ سے وابستہ حلقوں کی جانب سے سوالات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
رواں سال جولائی میں سی ڈی اے نے اسلام آباد میں کمرشل پلاٹوں کی 3 روزہ نیلامی کے دوران مجموعی طور پر 19 ارب 56 کروڑ روپے کا ریکارڈ ریونیو حاصل کیا تھا، نیلامی میں 8 کمرشل پلاٹس اور بلیو ایریا کے پارکنگ پلازہ کی 4 دکانیں فروخت کی گئی تھیں، نیلامی میں سب سے مہنگا پلاٹ نیو بلیو ایریا (سیکٹر جی-8) میں پلاٹ نمبر 13 تھا جو کہ 7 ارب 24 کروڑ روپے میں نیلام ہوا۔
مزید پڑھیں: سی ڈی اے نے نیلامی میں 19 ارب 56 کروڑ روپے اکٹھے کر لیے، نیو بلیو ایریا کا پلاٹ 7 ارب 24 کروڑ میں فروخت
فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان کے مرکزی نائب صدر رانا محمد اکرم نے سی ڈی اے کے پلاٹوں کے نیلامی کے عمل پر مکمل گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سی ڈی اے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں واقع رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کا پہلے سروے کرتا ہے، جس کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کن پلاٹوں کو اوپن مارکیٹ میں نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ یہ نیلامیاں عموماً اسلام آباد کنونشن سینٹر یا ایف 9 پارک میں واقع سی ڈی اے کی مخصوص عمارت میں منعقد ہوتی ہیں۔
’نیلامی سے قبل سی ڈی اے کی جانب سے تفصیلی بروشر جاری کیے جاتے ہیں‘
’نیلامی سے قبل سی ڈی اے کی جانب سے تفصیلی بروشر جاری کیے جاتے ہیں جو سی ڈی اے کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ ان بروشرز میں پلاٹوں کی لوکیشن، سائز، نقشے اور دیگر تفصیلات شامل ہوتی ہیں تاکہ سرمایہ کار مکمل معلومات کے ساتھ نیلامی میں حصہ لے سکیں۔‘
رانا محمد اکرم کے مطابق نیلامی میں حصہ لینے کے لیے درخواست فارم حاصل کر کے مکمل کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ سی ڈی اے کے نام سیکیورٹی ٹوکن منی جمع کروائی جاتی ہے۔ یہ رقم عموماً کروڑوں روپے پر مشتمل ہوتی ہے، جس کا مقصد غیر سنجیدہ بولی دہندگان کو روکنا ہے تاکہ کوئی شخص بلند بولی دے کر بعد میں پیچھے نہ ہٹ جائے۔‘
’ماضی میں ایسا ہوتا رہا کہ لوگ معمولی رقم جمع کرا کر بولی دیتے اور بعد میں ادائیگی سے انکار کر دیتے تھے، اسی لیے اب بڑی رقم بطور ٹوکن لازمی قرار دی گئی ہے۔‘
’پلاٹوں کی نیلامی کے دوران جلدی بازی نہیں کی جاتی‘
انہوں نے کہاکہ سی ڈی اے کی نیلامی بظاہر شفاف ہوتی ہے اور بعض اوقات ایک ہی پلاٹ پر بولی لگانے میں آدھا آدھا گھنٹہ بھی لگ جاتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ جلد بازی کے بجائے زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کی جائے۔ مثال کے طور پر اگر ایف سیکٹر کے کسی مرکزی کمرشل پلاٹ کی بولی 20 لاکھ روپے فی مرلہ یا فی گز تک پہنچ جائے تو مجموعی قیمت ایک ارب روپے سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔
رانا محمد اکرم کے مطابق اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب نیلامی مکمل ہونے، تالیاں بجنے اور اخبارات میں خبر شائع ہونے کے باوجود سی ڈی اے بعد ازاں بورڈ میٹنگ میں یہ کہہ کر بولی مسترد کر دیتا ہے کہ قیمت ان کی مقررہ ’ریڈ لائن‘ سے کم تھی۔ ایسی صورت میں بولی دہندہ کی جمع کروائی گئی کروڑوں روپے کی ٹوکن منی واپس کر دی جاتی ہے تاہم یہ طریقہ کار سرمایہ کاروں کے لیے حوصلہ شکن ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر سی ڈی اے نے کوئی کم از کم قیمت مقرر کر رکھی ہے تو وہ نیلامی کے آغاز پر ہی واضح کر دینی چاہیے تاکہ سرمایہ کار اسی بنیاد پر بولی دیں۔
’ایک ماہ میں مکمل رقم ادا کرنے پر 10 فیصد رعایت‘
سی ڈی اے کی پالیسی کے مطابق اگر کوئی خریدار مکمل رقم مقررہ مدت (عام طور پر ایک ماہ کے اندر) ادا کر دے تو اسے 10 فیصد رعایت دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ارب روپے کے پلاٹ کی قیمت 90 کروڑ روپے رہ جاتی ہے جبکہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی سہولت موجود ہے۔
اگر کوئی بیرون ملک مقیم پاکستانی مکمل ادائیگی بیرون ملک سے زرمبادلہ کی صورت میں کرے تو اسے 15 فیصد تک رعایت دی جاتی ہے، یوں ایک ارب روپے کا پلاٹ قریباً 85 کروڑ روپے میں مل جاتا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ملک میں قیمتی زرمبادلہ لانا ہے۔
رانا محمد اکرم کے مطابق ماضی میں سی ڈی اے ایک یا دو سال بعد نیلامی کرتا تھا، مگر اب صورتحال بدل چکی ہے۔ گزشتہ 2 سے 3 سالوں میں ایک ہی سال میں 3،3 مرتبہ نیلامیاں ہو رہی ہیں۔ رواں سال بھی فروری میں نیلامی ہوئی، پھر جولائی میں اور اب 22 اور 23 دسمبر کو ایک اور نیلامی ہونے جا رہی ہے۔
سی ڈی اے پلاٹوں کی نیلامی کیوں کرتا ہے؟
سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ ادارے کی روزمرہ آمدن جیسے پراپرٹی ٹیکس، ٹرانسفر فیس، نقشہ منظوری فیس اور دیگر ذرائع بمشکل ملازمین کی تنخواہوں اور انتظامی اخراجات پورے کرتی ہے۔ اسلام آباد میں قریباً 10 سے 12 ہزار ملازمین کی تنخواہیں ایک بڑا خرچ ہیں، اور چونکہ سی ڈی اے کو حکومت سے کوئی رقم نہیں ملتی اس لیے اخراجات پورے کرنے کے لیے نیلامی کی جاتی ہے، اس کے علاوہ رقم شہر کی سڑکوں کی تعمیر، شہر کی خوبصورتی اور سڑکوں، انڈر پاس اور مختلف انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی پر خرچ کی جاتی ہے۔
گزشتہ چند سالوں میں اسلام آباد میں بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے، جن میں انڈر پاسز، فلائی اوورز، سگنل فری کوریڈورز، شاہین چوک، ٹی چوک، سینٹورس کے اطراف، حیدر چوک اور دیگر مقامات پر سڑکوں کی بہتری شامل ہے، ان تمام پر نیلامی سے حاصل کی گئی رقم خرچ کی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، کرکٹ اور فٹبال کے 20 میدانوں کی نیلامی روک دی
رانا محمد اکرم کے مطابق بلڈرز اور ڈیولپرز، جو اوورسیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری پر آمادہ کرتے ہیں، دراصل حکومت کے ’غیر سرکاری سفیر‘ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نیلامیوں سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے، کم از کم قیمتیں واضح کی جائیں اور نیلامی کے بعد بولی مسترد کرنے کا عمل ختم کیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیاکہ پلاٹ خریدنے والوں کو بروقت قبضہ، نقشہ منظوری اور تعمیر کی اجازت دی جائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہے۔













