54 برس پہلے دیکھے گئے خواب کی تعبیر

پیر 22 دسمبر 2025
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یہی دن تھے، یہی موسم تھا، شاید اسی طرح دھند چھائی تھی، یہی خطہ تھا، یہی لوگ تھے مگر سب کچھ یہی نہیں تھا۔ 54 برس پہلے اسی مہینےآسمان زمین سے ٹکرا گیا، قیامت سی قیامت آ گئی، پاکستان دو لخت ہو گیا۔ تاریخ  کے اوراق کو سقوط ڈھاکہ  درپیش  ہوا۔ جہاں سے تحریک پاکستان کا آغاز ہوا تھا، وہی علاقہ پاکستان سے الگ ہو گیا۔ 54 برس پہلے بنگلہ دیش بن گیا۔

کہا جاتا ہے کہ اس دن دونوں طرف کے محب وطن لوگ اس تقسیم پر گلیوں میں گلے لگ کر روئے تھے۔ مشرقی پاکستان میں متحدہ پاکستان کے حامی نوحہ کناں تھے اور دوسری جانب سارا مغربی پاکستان سکتے میں تھا۔ جیسے آزادی کے جذبے کو سانپ سونگھ گیا ہو، جیسے کسی خاندان کو نظر لگ گئی ہو، جیسے کسی نے سگے بھائیوں کو بددُعا دی ہو۔ جیسے ہنستے بستے گھر کا بٹوارہ ہو گیا ہو۔

تاریخ نے اس تقسیم کو اپنے اپنے مورخ کی نظر سے دیکھا لیکن یہ گواہی ضرور دی جا سکتی ہے کہ پاکستان نے کبھی بنگلہ دیشی بھائیوں کو اس تقسیم کا الزام نہیں دیا، ان پر غداری کی تہمت نہیں لگائی۔ ہاں! البتہ مکتی باہنی کی سازشوں کو نصاب میں ضرور شامل کیا۔

بھارتی مکاری سے ہوشیار رہنے کا درس ہر نسل کو ضرور دیا۔ ادھر بنگلہ دیش میں مورخ اور تھا اس لیے وہاں تاریخ مختلف تھی۔ وہاں پاکستان کے خلاف نفرت کو بھارتی سرپرستی میں فروغ دیا گیا۔ من گھڑت الزامات لگائے گئے۔

جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش میں اس تقسیم کے خلاف آواز اٹھاتی رہی اور اس کا خمیازہ بھی بھگتتی رہی۔ جماعت پر ہی کیا موقوف، بہت سے دیگر بنگلہ بھائی مغربی پاکستان کی چند پالیسیوں سے اختلاف ضرور رکھتے تھے مگر تقسیم ان کے گمان میں بھی نہ تھی۔ شیخ مجیب الرحمان 6 نکات کھیسے میں لیے پھر رہے تھے۔ مغالطے پر مغالطے ہو رہے تھے۔ تاریخ کا چہرہ مسخ ہو رہا تھا۔ اور نفرت محبت پر حاوی ہو رہی تھی۔

بہت سنا ہے کہ اگر بھٹو صاحب مجیب کے مطالبات مان لیتے، ان کی پارٹی کی اکثریت تسلیم کر لیتے اور ان کو حکومت بنانے کا موقع دے دیتے تو بات تقسیم تک نہ پہنچتی لیکن یہ بات ایک مغالطہ ہی ثابت ہوئی۔

سوچیں تو اگر مجیب کو حکومت بنانے کا موقع مل جاتا تو کیا پتہ وہ مغربی پاکستان کو بھی اسی طرح بھارتی استبداد کے حوالے کر دیتے۔  جس طرح ان کی جماعت نے پورے بنگلہ دیش کو ایک آزاد ملک کے بجائے بھارت کے زیرِ تسلط ایک ریاست بنا دیا۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھیں تو بھٹو کا فیصلہ جمہوریت کے خلاف اور پاکستان کے حق میں درست تھا۔ مجیب الرحمان  بھارت کے اتنے مطیع تھے  کہ جب انہیں رہائی ملی تو وہ پہلے اندرا گاندھی کے ساتھ جلسہ کرنے بھارت پہنچ گئے اور پھر جب فرصت ملی بنگلہ دیش کی سرزمین پر قدم رکھا۔

مجیب کا انقلاب اتنا کمزور ثابت ہوا کہ 4 سال بعد ہی بانیِ انقلاب کو اسی کے محافظوں نے ختم کر دیا۔ اس وقت تک بنگالی بھائیوں کو حقیقت کا علم ہو چکا تھا مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ تقسیم کی لکیر دنیا کے نقشے پر بہت گہری ہو گئی تھی۔

بنگلہ دیش کے قیام سے شیخ حسینہ واجد کے فرار تک بنگلہ دیش میں پاکستان کے خلاف باقاعدہ ایک مہم چلائی گئی جس کا مقصد بنگالیوں کی فلاح نہیں، بھارت کی خوشنودی حاصل کرنا تھا۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا ادراک ہے کہ حسینہ واجد نے اس بری طرح بنگلہ دیش کو بھارت کے ہاتھوں گروی رکھ دیا تھا کہ ایک ڈائریکٹر کی تعیناتی کے لیے بھی بھارتی حکومت کی منظوری درکار ہوتی۔

حسینہ واجد نے بنگالی عوام کے لیے کچھ نہیں کیا سوائے اس کے کہ انہیں ہر طریقے سے پاکستان سے نفرت پر اکسایا، پاکستان کے خلاف نصاب میں من گھڑت کہانیاں شامل کروائیں، نوجوان نسل کو جھوٹی کہانیاں سنائیں۔ لیکن یہ جھوٹ کبھی بھی سچ پر غالب نہیں آ سکا۔

حسینہ واجد جس شدت سے پاکستان دشمنی اور بھارت سے محبت کا پرچار کرتی رہیں، اسی شدت سے وہاں ایک  اور اپوزیشن ظہور پاتی گئی۔ یہ اپوزیشن کسی سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ نوجوان طلبا کی تھی، جو بھارت کے زیرِ تسلط رہنے سے منکر تھے، جو بھارتی جبر سے آزاد خود مختار بنگلہ دیش چاہتے تھے، جو پاکستان دشمنی پر آمادہ نہیں تھے۔ طلبا کی اس قوت نے حسینہ واجد جیسی جابر خاتون کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کیا۔ لیکن اس سے پہلے وہ بدبخت عورت 1400 نوجوان طلبا کو ہنگاموں میں قتل کر چکی تھی۔

پھر وہ وقت بھی آیا جب حسینہ واجد نے اپنے محافظوں کو اپنے محل کی جانب بڑھتے ہجوم پر گولیاں برسانے کا حکم دیا۔ محافظوں نے کہا ہجوم لاکھوں میں ہے اور ان سب کو قتل نہیں کیا جا سکتا البتہ آپ کے فرار کے لیے ہیلی کاپٹر تیار ہے۔ اور پھر۔۔۔۔ حسینہ واجد ہجوم کے ہاتھوں اپنے انجام سے خوف زدہ ہو کر فرار ہو گئی۔ چند لمحے کی تاخیر ہو جاتی تو یہ بپھرا ہوا ہجوم اس ظالم عورت کے چیتھڑے اڑا دیتا۔

ناہید اسلام کی قیادت میں نہتے بنگالی نوجوانوں نے وہ کارنامہ سرانجام دیا جس کی مثالیں دنیا کی تاریخ میں دی جائیں گی لیکن بھارتی جبر اب بھی نہیں رک رہا۔

نوجوان عثمان ہادی انقلاب لانے والوں میں سے تھے۔ آنے والے انتخابات میں بنگلہ دیش کے اہم رہنما ہو سکتے تھے۔ بھارت کے خلاف ان کے افکار دنیا جانتی تھی۔ اس نوجوان کو ’را‘ کے ایجنٹوں نے سر عام قتل کر دیا۔ مزید بھارت مخالف نوجوانوں کو بھی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ بھارتی حکومت جانتی ہے کہ اگلے الیکشن میں اگر ان نوجوانوں نے اکثریت حاصل کر لی تو یہ بھارتی تابوت میں آخری کیل ہو گی۔

اہم بات یہ ہے کہ حسینہ واجد کے بعد  اب ایک نیا بنگلہ دیش معرض وجود میں آ چکا ہے جس میں دو جذبے پوری شدت سے کارفرما ہیں۔

ایک جذبہ بھارت اور اس کے استبداد سے شدید نفرت کا ہے، اور دوسرا جذبہ پاکستان سے شدید محبت کا ہے، تجدیدِ عہد کا ہے، محبتوں کے احیاء کا ہے۔

شیخ مجیب الرحمان نے جو خواب 54 برس پہلے بنگالیوں کو دکھایا تھا اس کی بھیانک تعبیر عثمان ہادی کے قتل کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔ وہ تقسیم جو دو بھائیوں میں کی گئی تھی اب اس میں محبت در آ چکی ہے۔

سقوطِ ڈھاکہ کو پہلے ہم جانے کسی بھی نظر سے دیکھتے ہوں، اب ہمیں اس بات کو سمجھنا ہے کہ آئینے کے دو ٹکڑے ہو جائیں تو دو آئینے تخلیق ہوتے ہیں۔ اب اس خطے میں مشترکہ دشمن کے مقابلے کے لیے ایک نہیں، دو بازو ہیں۔ بات صرف اتنی سمجھانی ہے کہ آنے والے عہد میں پاکستان اور بنگلہ دیش کی  تاریخ کو تقسیم نہیں، تعاون کا نصاب لکھنا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات

کرکٹ بورڈ کو الٹی میٹم دینے کی بھارتی خبریں غلط اور غیر مستند ہیں، بنگلادیش

ایران کیخلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، آرمی چیف کا دشمنوں کو سخت انتباہ

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مودی کے خلاف پھر نعرے، احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا

ویڈیو

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

جعلی مقدمات قائم کرنے سے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ

عمران خان نے کہا تھا کہ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘، شاندانہ گلزار

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟