ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آفس اسلام آباد نے بچہ یا بچی گود لینے کے خواہشمند افراد کے لیے باضابطہ طریقۂ کار واضح کرتے ہوئے ایک سرکاری اشتہار جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق گود لینے کا عمل مکمل طور پر قانونی، عدالتی نگرانی اور مقررہ شرائط کے تحت ہوگا۔
جاری کردہ اشتہار کے مطابق وہ افراد جو بچہ یا بچی گود لینا چاہتے ہیں، انہیں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آفس، اسلام آباد میں تحریری درخواست جمع کروانا ہوگی۔ درخواست گزار کو اپنی خواہش کے ساتھ مکمل کوائف اور ضروری دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی۔
گود لینے کے لیے درکار اہم دستاویزات
اشتہار میں بتایا گیا ہے کہ درخواست کے ساتھ درج ذیل دستاویزات منسلک کرنا لازم ہوں گے:
قومی شناختی کارڈ (CNIC)، نکاح نامہ (شادی شدہ افراد کے لیے)، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ، پولیس ویریفکیشن/کریکٹر سرٹیفکیٹ، مالی حیثیت سے متعلق دستاویزات اور رہائش کا ثبوت۔
درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آفس کے مطابق تمام مطلوبہ دستاویزات کے ہمراہ درخواستیں 2 جنوری 2026 تک جمع کروائی جا سکتی ہیں۔ مقررہ تاریخ کے بعد موصول ہونے والی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔
درخواستوں کی جانچ اور منظوری
اشتہار کے مطابق، درخواستیں موصول ہونے کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی۔ تمام قانونی تقاضے پورے ہونے اور مقررہ معیار پر پورا اترنے والے امیدواروں کی درخواستیں قابلِ قبول قرار دی جائیں گی، جبکہ حتمی منظوری مجاز عدالت/ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے دی جائے گی۔
قانونی طریقہ اختیار کرنے پر زور
انتظامیہ نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ بچہ یا بچی گود لینے کے لیے غیر قانونی یا غیر رسمی ذرائع استعمال کرنے کے بجائے صرف سرکاری اور قانونی طریقہ اختیار کریں، تاکہ بچے کے حقوق، تحفظ اور مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ اقدام بچوں کی فلاح و بہبود اور گود لینے کے عمل کو شفاف، محفوظ اور قانونی بنانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔













