بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں معروف اخبارات پروتھوم الو اور دی ڈیلی اسٹار کے دفاتر پر ہونے والے حملوں، توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور آتش زنی کے واقعات میں ملوث مزید 9 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ان گرفتاریوں کے بعد اس کیس میں زیرِ حراست افراد کی مجموعی تعداد 28 ہو گئی ہے۔ یہ گرفتاریاں ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کی ڈیٹیکٹیو برانچ نے عمل میں لیں۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد کا تعلق نوآخلی، رنگپور، چندپور، شریعت پور، میمن سنگھ، ڈھاکا، بھولا اور راجشاہی سمیت مختلف اضلاع سے ہے۔
ڈپٹی کمشنر (میڈیا) طالب الرحمٰن نے بتایا کہ تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق اب تک کم از کم 31 افراد کی شناخت کی جا چکی ہے جو ان پرتشدد واقعات سے منسلک ہیں۔
اس سے قبل 19 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں سے بعض پر میڈیا دفاتر میں لوٹ مار اور براہِ راست حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
منظم حملے اور آتش زنی
پولیس کے مطابق جمعرات کی شب منظم گروہوں نے ڈھاکہ کے علاقے کاروان بازار میں واقع پروتھوم آلو اور ڈیلی اسٹار کے دفاتر پر طویل حملے کیے۔ حملہ آوروں نے عمارتوں میں توڑ پھوڑ کی، مختلف حصوں کو آگ لگا دی اور قیمتی سامان لوٹ لیا۔ آگ بجھانے کے لیے آنے والی فائر سروس کی گاڑیوں کو بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی رات حملہ آوروں نے شایانوت عمارت کو بھی آگ لگا دی، جبکہ اگلے روز معروف ثقافتی تنظیم اودھیچی کے دفاتر پر بھی حملہ کر کے انہیں نذرِ آتش کیا گیا۔
مقدمہ درج، مزید گرفتاریاں متوقع
پروتھوم آلو کی جانب سے تیجگاؤں پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرایا گیا ہے، جس میں انسدادِ دہشت گردی قوانین، اسپیشل پاورز ایکٹ، سائبر سیکیورٹی آرڈیننس اور تعزیراتِ بنگلہ دیش کی دفعات کے تحت اقدامِ قتل سمیت متعدد الزامات شامل کیے گئے ہیں۔
مقدمے میں 400 سے 500 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔














