روس میں واٹس ایپ کے خلاف جاری حکومتی کریک ڈاؤن کے باعث صارفین کو سروس میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ نئی پابندیوں کو واٹس ایپ تک رسائی میں رکاوٹوں کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کا نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے خصوصی فیچر متعارف
واٹس ایپ کے ترجمان نے کہا کہ واٹس ایپ تک رسائی محدود کر کے روسی حکومت 10 کروڑ سے زائد افراد سے نجی اور اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ رابطے کا حق چھیننا چاہتی ہے وہ بھی ایسے وقت میں جب روس میں تعطیلات کا موسم قریب ہے۔
انٹرنیٹ پروٹیکشن سوسائٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میخائل کلیماریف کے مطابق 23 دسمبر سے واٹس ایپ کی رفتار میں تقریباً 70 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔
اس صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے روسی کمیونیکیشن ریگولیٹر روسکو منادزور نے خبردار کیا ہے کہ اگر واٹس ایپ روسی قوانین کی تعمیل میں ناکام رہا تو اس پر مکمل پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔
’واٹس ایپ روسی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے‘
روسکو منادزور کے مطابق واٹس ایپ مسلسل روسی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ریگولیٹر کا دعویٰ ہے کہ اس میسجنگ ایپ کو ملک کے اندر دہشتگرد سرگرمیوں کی منصوبہ بندی، افراد کی بھرتی، فراڈ اور دیگر جرائم کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
منگل کے روز ہزاروں روسی صارفین نے واٹس ایپ کی سست روی اور سروس بند ہونے سے متعلق شکایات درج کرائیں۔
واضح رہے کہ روس نے اگست سے میٹا کی ملکیت واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر بتدریج پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی تھیں۔
ریگولیٹر کا الزام ہے کہ غیر ملکی پلیٹ فارمز اور ایپس فراڈ سے متعلق معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شیئر نہیں کرتیں۔
حکومت کا میکس نامی متبادل ایپ لانے کا ارادہ
واٹس ایپ کے علاوہ فیس بک، اسنیپ چیٹ، انسٹاگرام اور یوٹیوب سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی روس میں پابندیوں کی زد میں ہیں۔
ادھر روسی حکام ان غیر ملکی ایپس کے متبادل کے طور پر ’میکس‘ نامی ایک سرکاری میسجنگ ایپ متعارف کرانے پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ مقامی سطح پر مواصلاتی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔












