پی آئی اے کی نجکاری، ایک سال میں 10 ارب سے 135 ارب روپے تک بولی کیسے بڑھی؟

بدھ 24 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری گزشتہ سال ناکام رہی تھی، لیکن ایک سال کے اندر بولی میں ریکارڈ اضافہ ہوا اور 75 فیصد شیئرز کی فروخت ممکن ہو گئی۔ اصلاحات، مالی خسارے کی کمی اور حکومت کی معاونت نے اس عمل کو کامیاب بنایا۔

پی آئی اے کی پہلی بولی

ملکی معیشت پر بوجھ ڈالنے والی پی آئی اے کی نجکاری کی باتیں 2014 سے ہو رہی تھیں، لیکن اب تک یہ عمل مکمل نہیں ہو سکا تھا۔ حکومت نے گزشتہ سال اکتوبر میں پہلی بولی کا انعقاد کیا، جس میں صرف ایک کمپنی نے حصہ لیا اور 10 ارب روپے کی بولی دی۔ نجکاری کمیشن نے چونکہ پی آئی اے کی ریزرو قیمت 85 ارب روپے رکھی تھی، اس لیے یہ بولی منسوخ کر دی گئی۔

دوسری بولی میں ریکارڈ اضافہ

گزشتہ روز اسلام آباد میں پی آئی اے کی نجکاری کے لیے دوسری مرتبہ بولی کا انعقاد ہوا، جس میں 3 کمپنیوں نے حصہ لیا۔ نجکاری کمیشن نے پی آئی اے کی ریزرو قیمت 100 ارب روپے مقرر کی۔

یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے میں بہت زیادہ پوٹینشل، 100 فیصد شیئرز خریدنا چاہتے تھے: عارف حبیب

لکی گروپ کنسورشیم نے 101 ارب 50 کروڑ روپے، عارف حبیب کنسورشیم نے 115 ارب روپے کی بولی دی جبکہ ایئر بلو کی کم بولی کی وجہ سے وہ پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہو گئی۔ بعد ازاں لکی گروپ نے بولی 134 ارب روپے تک بڑھائی اور عارف حبیب گروپ نے 135 ارب روپے کی بولی دے کر پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خرید لیے۔

مالی اصلاحات اور سیلز ٹیکس چھوٹ

وفاقی وزیر نجکاری عبد العلیم خان کے مطابق گزشتہ سال نجکاری کی ناکامی کی بڑی وجہ ایف بی آر کا تعاون نہ ہونا اور طیاروں کی لیز پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ نہ دینا تھا۔ اس مرتبہ نئے طیاروں کی خریداری پر سیلز ٹیکس چھوٹ حاصل کی گئی، جس سے پی آئی اے لیز طیاروں پر ماہانہ تقریباً 81 لاکھ روپے کی سہولت حاصل کرے گا۔

خسارے میں کمی اور منافع بخش کارکردگی

گزشتہ سال نجکاری کے وقت پی آئی اے کے خسارے 200 ارب روپے سے زائد تھے، اسی وجہ سے صرف ایک کمپنی بولی میں شریک ہوئی۔ اس مرتبہ تمام خسارہ ختم کیا گیا۔ پی آئی اے نے 2024 میں 26 ارب 20 کروڑ روپے کا کل منافع حاصل کیا، جس میں آپریٹنگ پرافٹ 9 ارب 30 کروڑ روپے (12 فیصد) رہا۔ یہ پہلی بار ہے کہ پی آئی اے نے 2003 کے بعد منافع کمایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے کی نجکاری پر خیبرپختونخوا حکومت کا شدید ردعمل، وفاقی حکومت سے معافی مانگنے کا مطالبہ

اصلاحات اور کارکردگی میں بہتری

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں بڑے اصلاحاتی اقدامات کیے گئے۔ ورک فورس میں 30 فیصد کمی کی گئی، غیر ضروری اخراجات کم کیے گئے اور منافع بخش روٹس پر زیادہ فلائٹس چلائی گئیں۔ نقصان والے روٹس پر فلائٹس کو محدود کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ کے روٹس پی آئی اے کی کل آمدنی کا 37 فیصد حصہ فراہم کرتے ہیں، جو 70 سے 80 ارب روپے سے زیادہ آمدنی دیتے ہیں۔

حکومت کا کردار

حکومت نے پی آئی اے کے قرضوں کا بوجھ الگ کر کے نجکاری کے عمل میں آسانی پیدا کی۔ مجموعی منافع میں 22 فیصد حصہ لوکل فلائٹس سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ باقی آمدنی گلف ممالک، سعودی عرب، یورپ اور ایشیا کی فلائٹس سے آتی ہے۔

جہازوں کی اپگریڈ اور عملے کی منصوبہ بندی

چیف آپریٹنگ آفیسر ایئر وائس مارشل عامر حیات کے مطابق پی آئی اے میں بڑے تبدیلی اقدامات کیے گئے۔ 8 جہازوں کے انجن تبدیل کیے گئے، 2 بڑے 777 جہاز جلد فلیٹ میں شامل ہوں گے اور 777 کے کارپٹ بھی تبدیل کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کا ایم او یو: عارف حبیب اور محسن نقوی کی دلچسپ گفتگو

موجودہ 19 جہازوں کی تعداد بڑھا کر 38 کی جائے گی۔ ملازمین کی موجودہ تعداد 6,700 ہے، لیکن جب 38 جہاز شامل ہوں گے تو عملہ کم ہو جائے گا۔ یہ اقدامات پی آئی اے کی کارکردگی میں بہتری اور نجکاری کے کامیاب انعقاد کی بنیاد ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عثمان طارق نے کیمرون گرین کو ’روتے بچے‘ سے تشبیہ کیوں دی؟

’کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ‘، جسٹس محمد علی مظہر نے بھٹو کی پھانسی کو غیر منصفانہ قرار دیدیا

دہشت گرد بلوچوں کو ایندھن بنا رہے ہیں، پاکستان کا ایک انچ نہیں لے سکتے، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

پاکستان کا خوف: بھارت کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کا مطالبہ

انسان دوبارہ چاند کی جانب سفر کے لیے تیار، ناسا نے راکٹ میں ایندھن بھرنے کی تیاری شروع کر دی

ویڈیو

ریاض: پاکستان انٹرنیشنل اسکول میں سالانہ اسپورٹس گالا، نظم و ضبط اور ٹیم اسپرٹ کا بہترین مظاہرہ

لاہور میں ماں بیٹی کے مین ہول میں گرنے کا واقعہ، عوام کیا کہتے ہیں؟

وزیراعظم پاکستان سے آذربائیجان کے صدر کے خصوصی نمائندے کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں

وفاق اور گل پلازہ

’لڑکی لیزنگ پر لے لو‘