وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن سے بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن عمران خان کو صرف اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کا شوق ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت 100 فیصد بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن پی ٹی آئی نے دوغلی پالیسی اپنائی ہوئی ہے، آج بھی ملک کے باہر ان کے لوگ گالیاں دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش: تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بات چیت پر آمادگی ظاہر کردی
وزیر دفاع نے کہاکہ عمران خان جب سے سیاست میں آئے ہیں ان کو تعلقات کا نشہ ہے، اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو بھی سوال کرنا چاہیے کہ آپ کن مذاکرات کی بات کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ میں محمود اچکزئی سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں سے خود بات چیت کے لیے تیار ہوں، کم از کم دہشتگردی سمیت دیگر قومی معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کا ایک مؤقف ہونا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی جب پہیہ جام ہڑتال کرے گی تب حکومت دیکھ لے گی۔ کور کمانڈرز نے آج جو پیغام دیا یہ مجموعی ہے کسی مخصوص سیاسی جماعت تک محدود نہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ جو لوگ تحریک انصاف کی سینیئر قیادت کو جیل سے نکالنے کی بات کررہے ہیں ان کو پی ٹی آئی والے مانتے ہی نہیں۔
واضح رہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے بات چیت پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔
ترجمان کے مطابق تحریک کے سربراہ محمود اچکزئی زیر صدارت تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اجلاس میں سینیٹر علاما راجہ ناصر عباس، رہنما بی این پی (مینگل) ساجد ترین، سیکریٹری جنرل تحریک تحفظِ آئین اسد قیصر، وائس چئیرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر، ترجمان اتحاد اخونزادہ حسین یوسفزئی نے شرکت کی۔
اجلاس میں شرکا نے اُصولی طور پر اس بات پر اتفاق کیاکہ ملک کو درپیش سیاسی اور معاشی بحران، امن او امان اور گورننس کے فقدان سے نکالنے اور عوام میں مایوسی کے خاتمہ کے لیے ایک نئے میثاق کی اشد ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش، پی ٹی آئی کا ردعمل سامنے آگیا
ترجمان کے مطابق نئے میثاق میں اپوزیشن مستقبل میں شفاف انتخابات، متفقہ نئے الیکشن کمشنر کی تقرری، پارلیمانی بالادستی، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کی پاسداری، آئینی اور جمہوری اقدار کی مضبوطی کے لیے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔














