وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے انکشاف کیا ہے کہ دشمن عناصر معصوم بچوں اور بچیوں کو کہانیاں سنا کر ان کی ذہن سازی کر رہے ہیں اور انہیں ریاست کے خلاف استعمال کرنے کی منظم کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ اور ریاست مخالف عناصر نو عمر لڑکوں اور لڑکیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک بڑے نقصان کو روک لیا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ دشمن ہمارے بچوں کو ہمارے ہی خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ریاست مخالف عناصر نے سوشل میڈیا کے ذریعے بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایک کم عمر بچی سے رابطہ کیا اور باقاعدہ اس کی ذہن سازی کی گئی۔
مزید پڑھیں: کالعدم بی ایل اے کو بیرونی ایجنسیاں فنڈنگ کرتی ہیں، سرفراز بنگلزئی
ضیا الحسن لنجار کے مطابق اس بچی کو خودکش بمبار بننے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا، جس کے لیے اسے مسلسل نفرت انگیز اور ریاست مخالف مواد فراہم کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک انتہائی سنگین اور خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
بچی گھر سے بہانہ بنا کر نکلی۔ کراچی کے باہر اسے ایک خاتون نے رِسیو کیا اور اپنے ساتھ لے گئی۔ بعد ازاں اس کی اس حد تک ذہن سازی کی گئی کہ وہ کسی کارروائی کے لیے تیار ہو سکے۔ایڈنیشنل آئی جی، سی ٹی ڈی pic.twitter.com/FQDsfNFqrj
— WE News (@WENewsPk) December 29, 2025
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی محمد آزاد خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ بچی کو ایک واٹس ایپ گروپ میں بھی شامل کیا گیا تھا جہاں اسے ریاست مخالف مواد دیا جاتا رہا۔ ان کے مطابق بی ایل اے کے ایک ریکروٹنگ ایجنٹ نے براہِ راست بچی سے رابطہ کیا اور اسے شدت پسندانہ سوچ کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی گئی۔
ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچی کو محفوظ بنا لیا اور اس سازش کو ناکام بنا دیا، ورنہ نقصان انتہائی بڑا ہو سکتا تھا۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ میں کالعدم بی ایل اے نیٹ ورک کا کارندہ گرفتار، وکالت کی ڈگری ہولڈر نکلا
وزیر داخلہ سندھ نے واضح کیا کہ ریاست ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور بچوں کے استحصال، دہشت گردی اور نفرت انگیز بیانیے میں ملوث تمام نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں کیونکہ آج دشمن بندوق نہیں بلکہ موبائل کے ذریعے ذہنوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
باور کرایا گیا کہ اگر کوئی بڑا کام کر لیا تو لوگ ہمیشہ یاد رکھیں گے، متاثرہ بچی
متاثرہ بچی نے اپنے بیان میں بتایا کہ سوشل میڈیا پر پہلے نفرت انگیز مواد سامنے آیا، پھر وہی مواد بار بار دکھایا جانے لگا۔ اس کے مطابق رفتہ رفتہ رابطہ بڑھتا گیا، لنکس اور تقاریر بھیجی جاتی رہیں اور آہستہ آہستہ وہ سب کچھ اسے سچ لگنے لگا۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پر پابندی بڑی کامیابی، اقوام متحدہ میں بھی مؤقف اٹھائیں گے: بلاول بھٹو
بچی نے بتایا کہ جب رابطہ کار کو معلوم ہوا کہ اس کے والد حیات نہیں ہیں تو اس نے ہمدردی کے نام پر اس کی کمزوری کو استعمال کیا اور مزید پھنسایا۔ اسے واٹس ایپ گروپس میں شامل کیا گیا جہاں کالعدم تنظیم بی ایل اے کی کارروائیوں کو بہادری اور قربانی کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، جو سراسر دھوکا تھا۔
پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کی جانب سے خودکش دھماکے کے لیے استعمال ہونے سے پہلے لڑکی کو بچا لیا گیا !خود کش خاتون بمبار کے تہلکہ خیز انکشافات،بی ایل اے کی دھجیاں اڑا دیں pic.twitter.com/DqWjpK8apY
— WE News (@WENewsPk) December 29, 2025
متاثرہ بچی کے مطابق اس عمل کے دوران اس کی پڑھائی شدید متاثر ہوئی اور ذہن میں یہ بات بٹھائی گئی کہ جان دینا ہی سب سے بڑا مقصد ہے۔ اسے بار بار یہ باور کرایا گیا کہ اگر کوئی بڑا کام کر لیا تو لوگ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
بچی نے انکشاف کیا کہ اسے گھر سے نکلنے کے لیے بہانہ بنانے پر آمادہ کیا گیا اور پھر بس پر بٹھا کر کراچی روانہ کر دیا گیا۔ اس نے کہا کہ ناکے پر جب پوچھ گچھ ہوئی تو وہ شدید گھبرا گئی، اور آج اسے مکمل طور پر احساس ہو گیا ہے کہ وہ کس تباہی کی طرف جا رہی تھی۔
متاثرہ بچی نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ بلوچ ہے اور بلوچ روایات عورت کی عزت اور تحفظ سکھاتی ہیں۔ عورتوں اور بچیوں کو قربان کرنا بلوچیت نہیں۔ اس نے کہا کہ جو لوگ قربانی کے نام پر گروپس میں شامل کرتے ہیں، وہ مددگار نہیں بلکہ شکاری ہوتے ہیں، اور اگر کوئی جان دینے کو بڑا مقصد کہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ زندگی کا دشمن ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے پر نئی امریکی پابندیاں، پاکستان کے لیے ایک نادر موقع
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا شکریہ جنہوں نے بیٹی کی جان بچائی، والدہ متاثرہ بچی
متاثرہ بچی کی والدہ نے عوامی مفاد میں بیان دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ کوئی اور بچی اس جال میں نہ پھنسے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی بیٹی کی جان بچائی۔
والدہ نے کہا کہ ریاست نے ماں کی طرح ان کی بچی کی جان بھی بچائی اور اس کی عزت اور مستقبل کو بھی مکمل طور پر محفوظ رکھا، جس پر وہ پوری قوم اور اداروں کی شکر گزار ہیں۔
والدین بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ نے اس موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ نفرت انگیز اور دہشتگرد مواد کے خلاف سخت چیکس لگائیں، ایسے اکاؤنٹس بند کریں اور اپنے الگورتھمز کو بہتر بنائیں تاکہ کم عمر بچوں تک یہ مواد نہ پہنچ سکے۔
انہوں نے کہا کہ زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سہولت کاروں اور دہشتگرد نیٹ ورکس کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، اور والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں کیونکہ ایک موبائل پورے خاندان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق انسداد دہشتگردی کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور دہشتگردی کے خلاف ریاستی عزم غیر متزلزل ہے۔
مزید پڑھیں:آمنہ شفیع، بلوچستان کے بچوں کا مستقبل سنوارنے والی باہمت خاتون
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ یہ واقعہ واضح ثبوت ہے کہ کالعدم بی ایل اے اور بی ایل ایف خواتین اور کم عمر بچیوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق خودکش حملہ نہ اسلام میں جائز ہے، نہ انسانیت میں، اور نہ ہی بلوچ روایات میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔
ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ یہ دہشتگردی کی بدترین شکل ہے کہ اب کم عمر بچیوں کو بھی موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، اور یہ کسی قسم کی مزاحمت نہیں بلکہ بچوں کا استحصال اور کھلی دہشتگردی ہے۔
دہشتگردوں کا سب سے بڑا ہتھیار اب بارود نہیں بلکہ جھوٹا بیانیہ ہے، وزیر داخلہ سندھ
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ آج کی پریس کانفرنس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ متاثرہ کم عمر بچی مکمل طور پر محفوظ ہے، اپنی والدہ کے ساتھ ہے اور ریاست نے اس کی عزت، وقار اور مستقبل کے تحفظ کو اولین ترجیح دی ہے۔
انہوں نے پوری قوم کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کا سب سے بڑا ہتھیار اب بارود نہیں بلکہ جھوٹا بیانیہ ہے، اور یہ جھوٹا بیانیہ اکثر سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں، کیونکہ آج دشمن بچوں کے ہاتھ میں موبائل دے کر انہیں نشانہ بنا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے علاقے کوہلو میں کارروائی، 5 دہشتگرد ہلاک
وزیر داخلہ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو کوئی بھی آپ کو کسی نام نہاد مقصد کے نام پر اپنی جان دینے کا کہے، وہ آپ کا خیر خواہ نہیں بلکہ آپ کا شکاری ہے۔
انہوں نے بلوچ عوام کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ دہشتگرد بلوچ عوام کے نام پر سیاست کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بلوچ بیٹیوں کو استعمال کرتے ہیں، جو بلوچ غیرت، روایات اور اقدار پر براہِ راست حملہ ہے۔
ضیا الحسن لنجار نے واضح کیا کہ حکومت صرف ایک بروقت کارروائی پر اکتفا نہیں کرے گی بلکہ اس واقعے میں ملوث تمام افراد اور دہشتگرد نیٹ ورکس کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی، کیونکہ پاکستان میں بچوں کے مستقبل سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔














