سیشن ججز کے اختیار کے تحت مقدمات کی منتقلی سے متعلق ایک اہم کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس حکم کو معطل کر دیا۔
سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسے حکم کا دفاع کیسے کیا جا سکتا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون کی یہ الف ب ہے جو ایک جج کو معلوم ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے 19 افسران و ملازمین کی خدمات وفاقی آئینی عدالت کے سپرد
انہوں نے واضح کیا کہ قانون کے مطابق سیشن جج مجسٹریٹ سے دوسرے مجسٹریٹ کو مقدمہ منتقل کرنے کا اختیار رکھتا ہے، جبکہ سیشن ججز کے فیصلوں کے خلاف مقدمات کی منتقلی کا اختیار ہائیکورٹ کے پاس ہے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے بھی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ متعلقہ جج اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ کی رجسٹرار بھی رہ چکی ہیں، اس کے باوجود قانونی نکات کو نظرانداز کیا گیا۔
سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون کے مطابق سیشن جج کو مجسٹریٹ سے مجسٹریٹ کے درمیان کیس منتقل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے متنازع ٹوئیٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کا ٹرائل روک دیا
وکیل مشتاق موہال نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا حکم قانون کے مطابق نہیں تھا۔
جبکہ وکیل سیدہ کنول نے مؤقف اپنایا کہ سیشن جج نے اپنے قانونی اختیار کے تحت ہی مقدمہ منتقل کیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں قرار دیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے متعلقہ قانون کا درست طور پر جائزہ نہیں لیا اور قانون کو مدنظر رکھے بغیر ہی سیشن جج کے حکم کو معطل کر دیا۔
مزید پڑھیں: توہینِ مذہب کے ملزم کی میت پر ہنگامہ، سپریم کورٹ نے مولوی احمد کی ضمانت مسترد کردی
عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے اور سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ سیشن جج قصور نے ملزمان کی درخواست پر مقدمہ ایک مجسٹریٹ سے دوسرے مجسٹریٹ کو منتقل کیا تھا، جس کیخلاف مدعی مقدمہ نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ نے سیشن جج کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ واپس بھجوانے کا حکم دیا تھا، جسے اب سپریم کورٹ نے معطل کردیا ہے۔














