وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بچوں کے استحصال کے کسی بھی اقدام کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کو دہرایا ہے اور سہولتکاروں اور دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
حکام کے مطابق، حالیہ کارروائی میں ایک کم عمر بلوچ بچی کو کامیابی سے بازیاب کرایا گیا، جو بی ایل اے سے منسلک آن لائن ریکروٹمنٹ نیٹ ورک کے ذریعے ذہنی اور نفسیاتی طور پر دہشتگردی کے لیے تیار کی جا رہی تھی۔ بچی کو حقیقی کارروائی میں شامل ہونے سے پہلے بچا لیا گیا۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا، کم عمر بلوچ بچی کو سوشل میڈیا کے ذریعے خودکش بمبار بنانے کی کوشش ناکام
کارروائی کے دوران بی ایل اے کے مکمل ریکروٹمنٹ چین کا انکشاف ہوا اور اسے ناکام بنایا گیا، جو آن لائن آغاز ہوا اور پھر کراچی میں بچی کو کسی نجی رہائش گاہ میں چھپایا گیا۔ حکام نے واضح کیا کہ جدید دہشتگردی کی شروعات اب سوشل میڈیا سے ہوتی ہے، جہاں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے نیٹ ورکس موبائل فونز اور آن لائن گروپس کے ذریعے بچوں کو تیار کرتے ہیں۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ خواتین اور کم عمر افراد دہشتگرد گروہوں کے بنیادی ہدف ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف بچانا کافی نہیں، ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی بھی لازمی ہوگی۔
حکام نے والدین اور عوام کو خبردار کیا کہ اب نفسیاتی اور نظریاتی ذہن سازی سوشل میڈیا کے ذریعے ہو رہی ہے، اور والدین کو اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ بچی کو حفاظتی تحویل میں رکھا گیا اور اس کے خاندان کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی گئی۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پر امریکی پابندیاں، کیا اب دہشتگردوں کو حاصل بھارتی حمایت ختم ہو پائےگی؟
پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ بچی کی حفاظت، عزت اور مستقبل کی ترجیح کے ساتھ بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشتگردانہ پروپیگینڈے کو بے نقاب کیا گیا، اور یہ ظاہر کیا گیا کہ بچوں کو نشانہ بنانا کوئی مزاحمت نہیں بلکہ کھلی دہشتگردی اور استحصال ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اعلان کیا کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی کسی بھی کوشش کو روکنے اور سہولتکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے میں کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، تاکہ بچوں کا مستقبل اور تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔














