اسلامی ریاست اور خوارج

منگل 30 دسمبر 2025
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہمارے ہاں ایک مخصوص صورتحال میں ’خوارج‘ کی اصطلاح بکثرت استعمال ہوتی ہے لیکن اس حوالے سے کوئی باقاعدہ نوعیت شعور عوام کو نہیں کہ یہ اصطلاح کن کے لیے استعمال ہوتی ہے اور ایسے لوگوں کے بنیادی تصورات کیا ہیں؟

اپنی ظاہری شکل میں یہ اصطلاح مذہبی نظر آتی ہے مگر عملاً یہ پوری کی پوری سیاسی ہے اور یہ لوگ وجود میں بھی سیاسی بنیاد پر آئے تھے۔ ایک جملے میں کہا جائے تو یہ ’ایمان اور عمل کی وحدت‘ کے قائل تھے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک محض کلمہ پڑھ کر ایمان لے آنا کافی نہ تھا، ایمان لانے والے شخص کے اعمال بھی ہر حال میں دین کے مطابق ہونے ضروری تھے۔ چنانچہ ان کے ہاں زنا کرنے، شراب پینے، قتل کرنے اور جھوٹی گواہی دینے سمیت کسی بھی طرح کے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والا شخص دائرہ اسلام سے خارج مانا جاتا تھا اور  ان کے نزدیک ایسا شخص واجب القتل تھا اور اس کا مال لوٹنا حلال تھا۔

ان کے انہی تصورات میں ایک تصور یہ بھی شامل تھا کہ حکم صرف اللہ کا چلے گا، انسانی مرضی نہیں چلے گی۔ چنانچہ اسی بنیاد پر انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بھی تکفیر کردی تھی اور کے خلاف جہاد واجب قرار دے دیا تھا اور یہی ان کا اصل ایجنڈہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں: فقیہ، عقل اور فلسفی

اس کے برعکس درست عمومی تصور یہ تھا کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب شخص دائرہ اسلام سے نہیں نکلتا بلکہ فاسق یعنی گنہگار کہلاتا ہے۔ جہاں تک مذہبی یا ریاستی امور میں انسانی مرضی کے استعمال کا تعلق ہے تو وہ تو چاروں خلفائے راشدین کے دور میں نظر آتی ہے۔ اور اسی کی بنیاد پر مسلم تہذیب صرف جود میں ہی نہ آئی تھی بلکہ ارتقائی مراحل سے بھی گزری تھی۔

پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ اصطلاح یوں وجود میں آئی کہ نائن الیون کے بعد پاکستانی ریاست کے خلاف مذہبی بنیاد پر مسلح جدوجہد کرنے والا ٹولہ بھی درحقیقت اسی طرح کے خیالات رکھتا ہے۔ یہ کلی طور پر خود کو پہلی مسلم صدی والے خوارج سے جوڑنے کی جرات نہیں کرپاتے مگر تصورات ان کے انہی جیسے ہیں۔مثلا پاکستان کے نظام حکومت کو کفریہ کہنا، اس کے خلاف مسلح جنگ کو جہاد قرار دینا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کو بھی خوارج نے کفریہ نظام ہی قرار دیا تھا۔ اور اسی بنیاد پر اس کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا تھا۔

حالیہ دور کے اس فتنے سے جڑا، نازک پہلو یہ ہے کہ ہمارے مدارس دینیہ سے پڑھ کر نکلنے والے نوجوان علماء یا ان سے جڑے لوگ کسی بھی قسم کا سیاسی علم نہیں رکھتے۔ نہ تو یہ کمیونزم، سوشلزم، لبرلزم اور ان کے ذیلی تصورات کا علم رکھتے ہیں اور نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ اسلامی نظام سیاست کیا ہے ؟ حتی کہ مذہبی سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ میں موجود اکثریت بھی ان امور سے نابلد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی ان سرگرمی اپنے لیڈرز کی تصاویر اور کیپشنز تک ہے۔ کوئی نظریاتی یا فکری گفتگو ان کی پوسٹوں میں نہیں ملتی۔ ایسے ماحول میں جب اسلام کے نام پر خوارج کی جانب سے گمراہ کن سیاسی پروپیگنڈہ ہو تو یہ خالی الذہن نوجوان علماء اس سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ مثلا موجودہ خوارج کا یہ دعویٰ انہیں پرکشش لگنے لگتا ہے کہ  ’مغربی جمہوریت کفر ہے، اور پاکستان میں یہی رائج ہے لہذا یہ کفریہ نظام والی ریاست ہے’۔

حالانکہ یہ احمق اتنا بھی نہیں جانتے کہ مغربی جمہوریت نام کی کوئی ایک جنس سرے سے دنیا میں موجود ہی نہیں۔ مغرب ہی نہیں دنیا بھر میں جمہوریت کی مختلف شکلیں ہیں، جو ریاستوں نے اپنے ماحول اور حالات کے مطابق اختیار کر رکھی ہیں۔ خود پاکستانی جمہوریت میں آئین شروع ہی یہاں سے ہوتا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ سبحانہ و تعالی کی ہے۔ اور اگلے قدم پر یہ آئین اسلام سے متصادم قانون سازی کو ممنوع قرار دیدیتا ہے۔ کیا مغربی جمہوریت ایسی ہی ہے؟

ان حالات میں ہمارے بڑے علما کو اس بات کا احساس کرنا ہوگا ان کا محض یہ فتویٰ دیدینا کافی نہیں کہ پاکستان اسلامی ریاست ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوعیت کی نظریہ سازی کے لیے سیاسی علم کا کم از کم بنیادی سا خاکہ ابتدائی طور پر ضرور شامل نصاب کرنا چاہیے۔ انہیں سکھانا چاہیے کہ ریاست کیا ہوتی ہے؟ اس کا نظم کیا ہے؟ آئین، قانون، اور رولز میں کیا فرق ہے؟ ادارے کسے کہتے ہیں اور محکمے کیا ہوتے ہیں؟ عوامی نمائندوں اور بیروکریٹس میں کیا فرق ہے؟ عالمی سیاست کسے کہتے ہیں؟ اور وہ ممالک کی اندرونی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟

آپ یقین کیجیے خود ہم سے بڑے جید قسم کے علما نے یہ سوال کیا کہ جب اقوام متحدہ جنگیں بند نہیں کراسکتی، مسئلہ فلسطین و کشمیر حل نہیں کرسکتی تو پھر اس ادارے کو برقرار کیوں رکھا گیا ہے؟ اور یہ سوال ہم سے کسی جھنجھلاہٹ میں نہیں کیا گیا بلکہ اس یقین کے ساتھ کیا گیا کہ اقوام متحدہ گویا محض تصفیے کرانے والا وہ ادارہ ہے۔ جہاں ممالک کے باہمی تنازعات کے حل نکالے جاتے ہیں۔ گویا انہیں معلوم ہی نہیں کہ وہ جو حج یا عمرے کے لیے ویزہ حاصل کرتے ہیں وہ بھی اقوام متحدہ کے چارٹر تلے بنے عالمی قوانین کے تحت ہی ہوتا ہے۔ سعودی حکومت یا دنیا کی کوئی بھی حکومت جب یہ فیصلہ کرتی ہے کہ وزٹ پر آنے والا غیر ملکی کتنے دن ان کے ہاں ٹھرسکتا ہے یہ بھی عالمی قوانین کے تحت ہوتا ہے جو اقوام متحدہ کے ہی تحت ہیں۔ حتی کہ دو ممالک کے مابین ہونے والے کسی بھی نوعیت کے معاہدات کی جو عالمی درجہ بندی ہے وہ بھی عالمی قوانین کے تحت اقوام متحدہ کے ہی طے کردہ امور ہیں۔یعنی ممالک اور ان کے شہریوں کا پورا بین الاقوامی ڈسپلن ہی اس ادارے کے تحت چل رہا ہے۔ یہ سب ہمارا مذہبی نوجوان نہیں جانتا۔ اور اس لیے نہیں جانتا کہ اسے پڑھایا ہی نہیں گیا۔ گویا قصور چھوٹوں کا نہیں بڑوں کا ہے۔

ذرا اس خلا کا مذہبی نقصان دیکھیے۔ اگر کوئی نوجوان عالم آپ کو یہ کہتا ملے کہ ہاں پاکستان اسلامی ملک ہے۔ آپ اس سوال کیجیے کہ کس دلیل سے؟ تو اس کا جواب ہوگا ’مفتی تقی عثمانی صاحب نے فتویٰ دیا ہے‘ یعنی اس کے پاس اپنی کوئی دلیل موجود نہیں، وہ ایک بڑے عالم کے فتوے کی رو سے پاکستان کو اسلامی ملک مانتا ہے۔ حالانکہ یہ تو عام آدمی کا لیول ہے۔ عام آدمی چونکہ دینی علوم سے ناواقف ہوتا ہے، سو اس کے پاس واحد آپشن یہی ہوتی ہے کہ کسی بھی فیلڈ کے بڑے عالم کی رائے پر اعتماد کرلے۔ کیا ایک عالم کو بھی اسی لیول پر رہنا چاہیے؟ وہ عالم بیشک نوجوان ہی کیوں نہ ہو اسے تو فقہی بنیاد پر یہ معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان اسلامی ملک کیسے ہے۔ یہی حالت ان کی بھی ہے جو بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں کہ چونکہ یہاں حکومت یا عدالت نے فلاں فلاں فیصلہ کردیا تھا جو شرعی طور پر غلط تھا لہذا یہ اسلامی ملک نہیں۔

مزید پڑھیں: آزای اور غلامی

یہ دیکھنے کی کوئی زحمت ہی گوارا نہیں کرتا کہ کلاسیکل دور سے لے کر عہد جید تک کے فقہا اسلامی ریاست کی شرائط بیان کیا کرتے ہیں؟ کیا وہ بھی کسی ایک آدھ غیر اسلامی اقدام پر ریاست کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں؟ ہم ایک مثال سے آپ کو سمجھاتے ہیں۔ معتزلی خلفا کے دور میں ایک ریاستی سطح کا عقیدہ یہ تھا کہ قرآن مخلوق ہے۔ یہ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کا دور تھا۔ انہوں نے اسے کفریہ عقیدہ قرار دیا۔ اور اس کے نتیجے میں بدترین ریاستی تشدد سے گزرے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سرکاری عقیدے پر امام احمد ابن حنبل نے ریاست کو غیر اسلامی قرار دیا تھا؟ ریاست چھوڑیے انہوں نے ان خلفا اور ان کے حکام کو بھی کافر قرار نہیں دیا تھا۔ یہ ایک ہم نے بس سمجھانے کے لیے مثال پیش کی ہے۔ ورنہ کلاسیکل دور میں حکمرانوں نے ایسے بہت سے اقدامات کیے جو غیر اسلامی تھے مگر کسی بھی فقیہ نے ان اقدامات پر ریاست کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں مانا۔

فقہا اسلامی ریاست کی شرائط یہ بیان کرتے ہیں۔ اقتدار مسلمانوں کا ہو، اسلامی قانون کو بالادستی حاصل ہو، مسلمان پوری آزادی سے دین پر چل سکیں، اقلیتوں کی جان، مال  اور ابرو کو تحفظ حاصل ہو، اوراداروں پر کنٹرول مسلمانوں کا ہو۔ کنٹرول میں سیاسی و عسکری دونوں طرح کے کنٹرول شامل ہیں۔ جس جغرافیے پر یہ 5 شرائط موجود ہوں، فقہا کے نزدیک وہ اسلامی ملک ہے۔

اسلامی ریاست کی شرائط میں شامل سب سے قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اسلامی قانون کو بالا دستی حاصل ہو۔ اس شرط میں ’بالادستی‘ لفظ بس روانی نہیں برتا گیا بلکہ اس کی پوری معنویت کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ بالادستی کا مطلب خود بخود یہ نکل آتا ہے کہ کوئی اور شئے بھی موجود ہے جس کے مقابلے میں کسی چیز کو بالادستی حاصل ہے۔ زیر نظر معاملے میں یہ کوئی اور شئے خلاف اسلام اقدامات یا فیصلے ہی ہوسکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ فقہا بالادستی کی بجائے 100 فیصد اسلامی کے اصول کی طرف کیوں نہیں گئے؟ یہ کیوں نہیں کہا اس ریاست کے قوانین 100 فیصد اسلامی ہوں؟

جسے یہ نکتہ سمجھ آگیا وہ اسلامی ریاست سے متعلق ہر طرح کی الجھن سے آزاد ہوجائے گا۔ نکتہ اس میں یہ ہے کہ فقہا یہ سمجھتے تھے کہ اور سمجھتے ہیں کہ جس طرح ایک مسلمان غیر اسلامی حرکت کرسکتا ہے۔ مثلا زنا، چوری، معصول کا قتل وغیرہ۔ اور یہ غیر اسلامی کام کرنے کے باوجود رہتا وہ مسلمان ہی ہے، دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوجاتا۔ بعینہ ریاست بھی گناہوں کا ارتکاب کرسکتی ہے، کیونکہ اسے چلانے والے بھی انسان ہی ہوتے ہیں۔ سو محض بعض غیر اسلامی اقدامات پر وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج نہ ہوگی۔ اور جس طرح کسی مسلمان کو تب ہی غیر مسلم مانا جاتا ہے جب وہ احکام الہی کا انکار کردے۔ اسی طرح ریاست کو بھی تب ہی غیر اسلامی سمجھا جائے گا جب وہ احکام الہی سے انکار کردے۔

مزید پڑھیں: منرو ڈاکٹرائن اور اس کی بگڑتی شکلیں

سو فقہا کے نزدیک اگر کسی اسلامی ریاست میں اسلام سے متصادم بعض چیزیں چل رہی ہیں لیکن ریاست کی مجموعی سمت درست ہے،  بالادستی اسلام کو ہی حاصل ہے تو ایسی ریاست اسلامی ہی مانی جائے گی۔ امید ہے اب آپ پر یہ بھی واضح ہوگیا ہوگا کہ محض چند ایک غیر اسلامی اعمال پر پاکستان کو غیر اسلامی قرار دینا درحقیقت خوارج کی ہی تائید ہوتی ہے۔کیونکہ یہ ان کا عقیدہ تھا کہ ایک بھی گناہ کبیرہ سے مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ لہذا ایک بھی خلاف اسلام اقدام سے ریاست بھی گویا کفریہ ریاست ہوجائے گی۔اس لغو تصور کو مسلم اجتماعی شعور نے اپنی تاریخ کے ہر دور میں مسترد کیا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

9 مئی میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو، فیصل کریم کنڈی

بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیر کی واشنگٹن میں امریکی حکام سے اہم ملاقاتیں، دوطرفہ اقتصادی تعان پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر اطلاعات کی عشرت فاطمہ کے گھر آمد، پی ٹی وی میں بطور مینٹور شمولیت کی پیشکش

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئندہ 15 روز کے لیے برقرار

بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کا اسلام آباد میں داخلہ آج رات 12 بجے کے بعد ممنوع

ویڈیو

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

مردان کے ریڈ بلڈ بیڑوچ مالٹے کی خاص بات کیا ہے؟

وی ایکسکلوسیو: نہ کوئی ونڈر بوائے آرہا ہے نہ ٹیکنوکریٹس اس ملک کے مسائل حل کرسکتے ہیں: مصدق ملک

کالم / تجزیہ

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘

ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں

کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن