کراچی کی سٹی کورٹس میں 29 دسمبر کو ایک ناخوشگوار واقعہ دیکھنے میں آیا جب معروف یوٹیوبر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا رجب بٹ پر ہونے والے تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیلنے لگی، یہ واقعہ رجب بٹ کے وکلا کے خلاف متنازع ویڈیو بیان کے باعث پیش آیا اور رجب بٹ ویڈیو ریکارڈنگ کی تیاری کرکے جب دوستوں کے ہمراہ پہنچے اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور کالے کوٹ اور ٹائی میں ملبوس افراد نے ان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
رجب بٹ کی جانب سے انکے وکیل نے تھانہ سٹی کورٹ میں تشدد کے خلاف مقدمہ کا اندراج کیا جس میں 3 وکلا سمیت دیگر نامعلوم کو نامزد کیا گیا اس مقدمہ کے اندراج کے خلاف وکلا نے نا صرف احتجاج ریکارڈ کیا بلکہ پولیس ذرائع کے مطابق وکلا نے ایس ایچ او سٹی کورٹ کو بھی بدترین تشدد کا نشانہ بنایا ہے یہ الزام 30 سے 40 وکلا پر لگایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ پر تشدد کے بعد بہن نے عدالت سے انصاف کی اپیل کردی
ادھر وکلا کے مطابق رجب بٹ کیس میں وکلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، وکلاء مقدمہ درج ہونے کے بعد مشتعل تھے، ایس ایچ او کو کہا ہماری طرف سے بھی مقدمہ درج کرو، جبکہ ایس ایچ او نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا تھا۔
سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے وکلا کے خلاف مقدمے کی مذمت کی ہے۔ ہائیکورٹ بار اعلامیہ کے مطابق ایڈووکیٹ عبدالفتاح چانڈیو اور ریاض علی سولنگی سمیت 15 نامعلوم وکلا کے خلاف مقدمہ کی مذمت کرتے ہیں، یہ ایف آئی آر صوبہ سندھ سے باہر کے ایک وکیل کی درخواست پر قانونی عمل کی پیروی کیے بغیر درج کی گئی، ایسی درخواستیں سندھ بار کونسل میں جمع کرائی جانی چاہییں۔

ایک وکیل کے لیے کسی مؤکل کی جانب سے دوسرے وکیل کے خلاف ایف آئی آر کے لیے درخواست دائر کرنا غیر مناسب ہے، بار اس عمل کو قانونی طریقہ کار کے سنگین غلط استعمال اور قانونی پیشے کی آزادی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے، ہم ایسے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں، متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قانونی برادری کے ارکان کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اصلاحی اقدامات کریں۔
مزید پڑھیں: رجب بٹ سے سندھ کے وزیر اوقاف کی ملاقات، یوٹیوبر کو کیا پیغام دیا؟
سابق ممبر سندھ بار کونسل حیدر امام رضوی کا کہنا ہے کہ اگر وکیل کسی مس کنڈکٹ میں ملوث ہوتا ہے تو اس کے خلاف سائل سندھ بار کونسل میں شکایت درج کرسکتا، سندھ بار کونسل اس شکایت کو دیکھے گی اگر وکیل مس کنڈکٹ کا مرتکب پایا گیا تو 3 ماہ کے لیے وکیل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے، سندھ بار کونسل کے پاس صرف 3 ماہ کے لیے لائسنس منسوخ کرنے کا اختیار ہے تاحیات لائسنس منسوخ کرنے کا اختیار ٹریبیونل کے پاس ہوتا ہے۔
اس سارے معاملے پر سینئیر وکیل ابراہیم سیف الدین کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز یوٹیوبر پر ہونے والا تشدد قابل مذمت ہے، وکلا کا کام لیگل ریمیڈیز لینا ہے ناکہ تشدد کرنا، انکا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں کسی سائل کے پاس 2 راستے ہوتے ہیں ایک ایف آئی آر کا دوسرا سندھ بار کونسل کونسل کا، سندھ بار کونسل ایک ریگولیٹری اتھارٹی ہے جس کا کام ہے وکلا کے کنڈکٹ کو ریگولیٹ کرنا، اگر کوئی وکیل خلاف قانون عمل کرتا ہے تو سندھ بار کونسل کا کام ہے اس کے خلاف ایکشن لینا۔

ابراہیم سیف الدین کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت مسلئہ یہ ہے کہ سندھ بار کونسل اپنا کام نہیں کررہی کیوں کہ وکلا سندھ بار کونسل کے ممبران ہیں اور انہی وکلا کے انہیں آگے ووٹ چاہیے ہوتے ہیں یہی بنیادی وجہ ہے کہ سندھ بار کونسل ریگولیٹری باڈی کا ٹھیک کردار ادا نہیں کر پا رہی ہے اگر سندھ بار اپنا کردار ادا کرے تو سائل اگر مقدمہ بھی درج کرواتا ہے تو ایسے صورت میں اس سائل کو عدالت میں بھی کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔
صدر کراچی بار عامر نواز وڑائچ کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ایک وکیل اور یوٹیوبر کے درمیان تھا پہلی تاریخ پر رجب بٹ کو اجرک پہنائی گئی عزت دی گئی، دوسری تاریخ پر آنے سے پہلے رجب بٹ نے ایک ویڈیو میں وکلا کے لیے نازیبا زبان استعمال کی جو غلط بات تھی، جب یہ اگلی پیشی پر آئے ہیں تو اپنے ساتھ وی لاگ کے لیے پورا سیٹ اپ لیکر آئے اور ویڈیو بنانے کے لیے کہ میں آگیا ہوں سٹی کورٹ اور یہ وہ وقت تھا کہ وکلا اور یوٹیوبرز کا آمنا سامنا ہوا ہے اب ان کی جانب سے مقدمہ درج ہو چکا جبکہ ہم مقدمہ درج کرانے بیٹھے ہیں۔
مزید پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ کے بعد اب ندیم نانی والے خطرے میں، وکیل نے کیا دھمکی دے دی؟
سماجی کارکن منزہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ رجب بٹ جس مقدمہ میں پہلی بار پیش ہوئے تھے وہ بھی ایک وکیل ہی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، دوسری بات یہ ہے کہ اگر کسی فرد نے وکلا کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال بھی کیے ہیں تو تشدد کا راستہ کسی صورت نہیں اپنانا چاہیے، سائل جب عدالت آتا ہے وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے جہاں سائل کو اپنا دفاع کرنا ہوتا ہے چاہے وہ وکیل کے ذریعہ ہو یا وہ خود اپنی وکالت کرے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی احاطہ کو ایسا نہ بنایا جائے جہاں ہر بندہ خود جج بن جائے اور وکیل کسی وقت کسی کو بھی سزا سنا دے، جرم چاہے کتنا بڑا کیوں نہ ہو اس میں سزا اور جزا کا حق جج کو حاصل ہے، خوف کا ماحول بن جائے گا تو پھر لوگ اس ڈر سے یہاں آنا چھوڑ دیں گے، ایسے معاملات کی روک تھام کے لیے بار ایسوسی ایشنز کو سامنے آکر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔













