ایران اور روس کے صدور کے درمیان منگل کے روز ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی تازہ صورتحال اور مشترکہ معاہدوں پر عملدرآمد میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
ٹیلیفونک رابطے کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے تہران اور ماسکو کے درمیان تعلقات کی اسٹریٹجک نوعیت پر زور دیا اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں ہونے والی حالیہ کامیابیوں کا جائزہ لیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جامع تعلقات کے فروغ کے لیے باقاعدہ مشاورت اور قریبی رابطہ نہایت ضروری ہے، جبکہ تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کے لیے ہم آہنگی کو مضبوط کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے امریکی ڈالر کیخلاف ایران روس اتحاد، باہمی تجارت مقامی کرنسیوں میں کرنیکا معاہدہ
ایرانی صدارتی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے نقل و حمل، ٹرانزٹ، توانائی اور پاور پلانٹس کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں حاصل ہونے والی کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد میں دونوں ممالک کے سربراہان کی حالیہ ملاقات کو ’انتہائی مثبت اور تعمیری‘ قرار دیا اور مشترکہ منصوبوں پر بروقت اور تیز عملدرآمد کے ساتھ ساتھ تہران اور ماسکو کے درمیان مسلسل رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔
صدر پزشکیان نے تعاون کے تمام شعبوں میں طے پانے والے معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے روسی عوام اور حکومت کو نئے سال کی مبارکباد دی اور کرسمس کے موقع پر روس کے لیے امن، خوشحالی اور پائیدار ترقی کی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور اسٹریٹجک تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیے ایران میں 8 نئے جوہری بجلی گھر بنانے کے لیے روس سے معاہدہ اس ہفتے متوقع
انہوں نے بتایا کہ رواں سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ایران اور روس کے درمیان تجارتی حجم میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور اس پیش رفت کو جاری رکھنے کے لیے تعاون کے فروغ اور معاہدوں پر تیز رفتار عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
صدر پیوٹن نے امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِاعظم کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دیے گئے حالیہ بیانات کو “افسوسناک” قرار دیا۔
ٹیلیفونک گفتگو کے اختتام پر دونوں صدور نے مکالمے اور رابطے کو جاری رکھنے، اقتصادی اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے، اور ٹرانزٹ، نقل و حمل اور پاور پلانٹس سے متعلق معاہدوں کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔











