شمالی کوریا کا نیا ملٹی پل راکٹ سسٹم، خطے میں تشویش کی لہر

جمعرات 1 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ایسے نئے ملٹی پل راکٹ لانچرز تیار کرنے والی ایک فیکٹری کا دورہ کیا ہے جو جنوبی کوریا کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق کم جونگ اُن نے ان ہتھیاروں کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ مرکوز حملے کے ذریعے دشمن کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 2040 تک شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار 400 سے تجاوز کر سکتے ہیں، ماہر کی پیشگوئی

شمالی اور جنوبی کوریا تکنیکی طور پر اب بھی حالتِ جنگ میں ہیں اور ماہرین کے مطابق کسی بھی ممکنہ تنازع کی صورت میں شمالی کوریا کی وسیع توپ خانے کی طاقت اور شدید نوعیت کے حملے اس کی عسکری حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

رینڈ تھنک ٹینک کی 2020 کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ اگر شمالی کوریا کا توپ خانہ جنوبی کوریا کے بڑے آبادی مراکز، خصوصاً دارالحکومت سیول، کو نشانہ بنائے تو صرف ایک گھنٹے میں 10 ہزار تک ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

کم جونگ اُن کا یہ دورہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل پیانگ یانگ نے اعلان کیا تھا کہ اس نے دو اسٹریٹجک طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کا تجربہ کیا ہے، جسے بیرونی خطرات کے خلاف جنگی تیاری کا مظہر قرار دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کے غیر جوہری بننے کے تصور کو ’خیالی پلاؤ‘ قرار دے دیا

کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق، میزائل پروگرام کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ فیکٹری کا دورہ کرتے ہوئے کم جونگ اُن نے کہا کہ یہ نیا ہتھیار ان کی فوج کا اہم حملہ آور ذریعہ ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ نظام اسٹریٹجک حملوں میں استعمال ہو سکتا ہے، جو عموماً جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی طرف اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا کا نیا میزائل تجربہ، خطے میں کشیدگی میں اضافہ

کم جونگ اُن نے نئے ملٹی پل راکٹ سسٹم کو ایک انتہائی طاقتور ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اچانک، درست اور انتہائی تباہ کن حملوں کے ذریعے دشمن کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق اس نظام کو فوجی کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں اور مرکوز حملوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

ریاستی میڈیا کی جاری کردہ تصاویر میں کم جونگ اُن کو ایک وسیع فیکٹری میں دیوہیکل میزائل سسٹمز کے ساتھ کھڑے دکھایا گیا، جہاں دیواروں پر سرکاری نعرے اور پروپیگنڈا بھی آویزاں تھا۔

کوریائی انسٹیٹیوٹ فار ملٹری افیئرز کے سینئر محقق ہونگ سنگ پیو کے مطابق شمالی کوریا اب اپنی اسٹریٹجک فوجی صلاحیتوں میں نمایاں اضافے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔

ان کے مطابق جنوبی کوریا کے نقطۂ نظر سے اس کا مطلب یہ ہے کہ شمال کی جانب سے فوجی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں: روسی صدر پیوٹن کی جانب سے شمالی کوریا کے رہنما کی بہن کو نئے سال کا تحفہ

شمالی کوریا نے حالیہ برسوں میں میزائل تجربات میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد نہ صرف حملوں کی درستگی بڑھانا ہے بلکہ امریکا اور جنوبی کوریا کو چیلنج کرنا اور ممکنہ طور پر ہتھیاروں کو روس برآمد کرنے سے قبل ان کی جانچ بھی شامل ہے۔

پیانگ یانگ میں 2026 کے اوائل میں حکمران جماعت کا ایک اہم اور تاریخی اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے، جو گزشتہ 5 برسوں میں اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہوگا۔

ماہرین کے مطابق اس اجلاس میں معاشی پالیسی کے ساتھ ساتھ دفاعی اور عسکری منصوبہ بندی سرفہرست ایجنڈے میں شامل ہوں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ملک کے مختلف علاقوں میں 30 اگست سے 4 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بند راستے کھولنے اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان، گرین بس سروس کا افتتاح کردیا

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے نائیکوپ فعال، ویزے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں، تحریک انصاف کا منفی پروپیگنڈا بے نقاب

دیامیر بھاشا ڈیم کا 4500 میگاواٹ بجلی منصوبہ منسوخ نہیں ہوا، وزارتِ اقتصادی امور نے گمراہ کن دعوؤں کو مسترد کردیا

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں