بلوچستان بھر میں ایک بار پھر آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں آٹے کی فی کلو قیمت میں ہوشربا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق کوئٹہ میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 20 کلو والے آٹے کی تھیلی کی قیمت میں 30 سے 50 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کی گندم کی فصل پر مقابلہ جاتی مہم کامیاب ہوگی؟
کوئٹہ میں 20 کلو آٹے کی بوری 2400 روپے سے بڑھ کر 2450 سے 2500 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ 50 کلو والے تھیلے کی قیمت 6,000 سے 6,500 روپے اور 100 کلو والے تھیلے کی قیمت 12,000 روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث عوام پریشان ہیں اور فلور مل مالکان کا بھی سر درد بڑھ گیا ہے۔
گندم اور آٹے کی ترسیل محدود
مرکزی چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن بدرالدین نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گندم اور آٹے کی ترسیل کے نظام کو عملی طور پر محدود کر دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔

خیبر پختونخواہ میں بحران
بدرالدین کے مطابق خیبر پختونخواہ کی یومیہ ضرورت تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار بوریاں ہے، جبکہ پنجاب کی جانب سے صرف 20 ہزار بوریاں روزانہ پرمٹ کے تحت فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس بڑے فرق کے باعث خیبر پختونخواہ میں آٹے کی قلت پیدا ہو چکی ہے اور پشاور میں 100 کلو آٹے کی قیمت بڑھ کر 12,600 روپے تک جا پہنچی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت نے گندم کوٹہ کیس میں بڑا حکم جاری کردیا
پنجاب میں سرکاری سطح پر 100 کلو آٹے کی قیمت 11,000 روپے مقرر کی گئی ہے، جس سے صوبوں کے درمیان قیمتوں کا واضح فرق پیدا ہو گیا ہے۔
سندھ کی صورتحال
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اپنی گندم کے ذخائر سے آٹا فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جہاں فلور ملز کو سرکاری گندم تقریباً 9,000 روپے فی 100 کلو کے حساب سے دی جا رہی ہے۔ تاہم اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ بلوچستان ہے، جو اپنی سالانہ گندم کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک دوسرے صوبوں پر انحصار کرتا ہے۔

بلوچستان کی گندم کی ضروریات
بدرالدین کا کہنا تھا کہ اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کی سالانہ گندم کی ضرورت تقریباً 18 لاکھ ٹن ہے، جبکہ صوبے میں مقامی پیداوار اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ جب گندم کا سیزن آتا ہے تو بلوچستان کچھ حد تک اپنی پیداوار سے آٹا تیار کرتا ہے، مگر باقی عرصے میں اسے پنجاب اور سندھ سے گندم اور آٹا منگوانا پڑتا ہے۔
پابندیوں کے اثرات
انہوں نے کہا کہ صوبوں کے درمیان نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث بلوچستان میں آٹے کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ نتیجتاً بلوچستان میں آٹے کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں 100 کلو آٹے کی قیمت 18,000 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ صرف گزشتہ 10 دنوں میں آٹے کی قیمت میں 20 روپے فی کلو اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

کوئٹہ کے دکانداروں کے مطابق 20 کلو آٹے کا تھیلا 2,500 روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ فلور ملز سے بھی آٹا مہنگے داموں فراہم کیا جا رہا ہے۔
آئینی تقاضے اور ماہرین کی رائے
فلور ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ پورے پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی کی ذمہ داری پنجاب پر ہے، مگر عملی طور پر اپنی صوبائی ضرورت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں فیڈ ملز کو گندم کے استعمال سے مزید 30 روز کے لیے روک دیا گیا
ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 151 صوبوں کے درمیان اشیائے ضروریہ کی آزادانہ نقل و حرکت کی ضمانت دیتا ہے، مگر عملی طور پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، جو آئینی تقاضوں کے منافی ہیں۔
سیاسی اثرات
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ گندم اور آٹے کی ترسیل پر پابندیاں محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے تحت بھی لگائی جا رہی ہیں، تاکہ بعض صوبوں میں عوامی دباؤ پیدا کیا جا سکے۔ اس صورتحال کی لپیٹ میں بلوچستان بھی آ گیا ہے، جہاں پہلے ہی غربت اور مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔

وفاقی حکومت کی ذمہ داری
دوسری جانب وفاقی حکومت کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وفاق اگر بروقت مداخلت کرے اور صوبوں کے درمیان گندم کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنائے تو بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، موجودہ حالات برقرار رہنے کی صورت میں بلوچستان سمیت دیگر متاثرہ صوبوں میں آٹے کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عام شہریوں پر پڑے گا۔













