18ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا نے گورنر ہاؤس پشاور کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ہوئی۔ وفد کی قیادت بریگیڈیئر بلال غفور کر رہے تھے جبکہ شرکا میں بلوچستان کی مختلف جامعات کے طلبہ اور فیکلٹی ممبران شامل تھے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے مہمان وفد کو گورنر ہاؤس آمد پر خوش آمدید کہا اور نئے سال کی مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر شرکا نے صوبے میں امن و امان، دہشت گردی کے خاتمے، جامعات کے امور اور قدرتی وسائل سے متعلق مختلف سوالات کیے۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان اور بشریٰ بی بی سزا یافتہ، احتجاج سے کیسے رہائی ہو سکتی ہے؟ فیصل کریم کنڈی
گفتگو کرتے ہوئے گورنر کے پی نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان ثقافتی طور پر ایک دوسرے کے قریب ہیں اور دونوں صوبے افغان سرحد سے منسلک ہونے کے باعث سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملنے والے وسائل سے خیبرپختونخوا پولیس کی استعداد میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہو سکا، حالانکہ پولیس ایک بہادر اور پیشہ ور فورس ہے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے صوبے کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے درکار اسلحہ اور سہولیات فراہم نہیں کی گئیں اور اب افغان سرحد کے راستے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرات بھی درپیش ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ناگزیر ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ کتنا قریب ہے؟ فیصل کریم کنڈی نے بتا دیا
گورنر خیبرپختونخوا نے سکیورٹی اداروں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کو سیاسی دائرے میں ہی رہنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں ہونے والے متعدد دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کے نام سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدگی سے توجہ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برس صوبہ کو دہشت گردی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا بھی سامنا رہا۔ تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں، تاہم صوبے کی 34 پبلک سیکٹر جامعات کے لیے بجٹ میں صرف 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو ناکافی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سہیل آفریدی نے اچھے کام کیے تو ہم حمایت کریں گے، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں آئل، گیس اور بجلی کی پیداوار کے باوجود صوبے کو اس کا مناسب فائدہ نہیں مل رہا، جس سے مسائل مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ہائیڈل پاور کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے بھرپور استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں گورنر کے پی نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتکاری بہتر سمت میں جا رہی ہے اور عالمی رہنماؤں کے دوروں سے تاجر برادری سمیت تمام طبقات کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے نوجوانوں کو ملک کا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان ہی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔














