گزشتہ روز وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی اُمور رانا ثنا اللہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’صدر، وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی سمیت 5 بڑوں کو اعتماد سازی کے لیے آپس میں مل بیٹھنے کی ضرورت ہے۔’
رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ اس تجویز میں پیپلز پارٹی بھی ہمارے ساتھ ہے۔ ان 5 اہم شخصیات کی بات کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا ان میں 2 تو لیڈر ہیں، میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف، تیسرے آصف علی زرداری، چوتھے بانی پی ٹی آئی اور 5ویں شخصیت کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ملک کے 5 بڑوں میں اعتماد سازی ہونی چاہیے، لیکن پی ٹی آئی اداروں کیخلاف مہم جوئی کررہی ہے، رانا ثنا اللہ
رانا ثنا اللہ کی اس تجویز کے جواب میں پی ٹی آئی کے ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی تجویز کے تناظر میں تمام 5 شخصیات کے درمیان ملاقات ممکن بنانے کے لیے حکومت کو رہنماؤں جیسے علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی سمیت بھی مداخلت کرنی چاہیے تاکہ یہ ملاقات ہوسکے۔
اُن کے مطابق اگر یہ ملاقاتیں ممکن ہوئیں تو سیاسی بحران میں کسی نہ کسی حد تک راہ نکل سکتی ہے۔
سیاسی طور پر اس تجویز کو کیسے دیکھا جا رہا ہے؟
سیاسی سطح پر اس تجویز کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقے اسے سیاسی ڈیڈلاک توڑنے اور درجۂ حرارت کم کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کی مرکزی قیادت نے اس تجویز کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا ہے اور حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے اسے محض سیاسی دباؤ کم کرنے یا اخلاقی برتری حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پہلے مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں، سیاسی مقدمات اور قیدیوں کے معاملات حل ہونے چاہئیں، اس کے بعد ہی اعتماد سازی کی بات کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اس وقت مذاکرات کا کوئی ماحول نظر نہیں آ رہا، سلمان اکرم راجا
پیپلز پارٹی کا کردار اس معاملے میں خاصا اہم مگر محتاط نظر آتا ہے۔ اگرچہ رانا ثنا اللّٰہ کے مطابق یہ جماعت بھی اس تجویز میں حکومت کے ساتھ ہے، تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے اب تک کوئی بھرپور عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
عملی اعتبار سے یہ تجویز جتنی پُرکشش دکھائی دیتی ہے، اتنی ہی پیچیدہ بھی ہے۔ شدید سیاسی عدم اعتماد، تلخ عوامی بیانیہ، سوشل میڈیا کی محاذ آرائی اور فریقین کی سخت شرائط اس عمل کو مشکل بنا دیتی ہیں۔
رانا ثنا اللہ کی تجویز عجیب اور حیران کن ہے، احمد بلال محبوب
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثنا اللہ کا بیان ناممکن العمل اور نامناسب ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا فوج کے سربراہ سیاستدانوں کے ساتھ مل بیٹھ کر فیصلہ کریں گے؟ رانا ثنا اللہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں وہ جمہوری قدروں پر یقین رکھتے ہیں وہ کیا فوج سیاست میں ایک فریق بنانا چاہتے ہیں، اور اسی بات کا تو الزام لگتا ہے تو کیا وہ اس الزام کو درست ثابت کرنا چاہتے ہیں؟
یہ بھی پڑھیے: وثوق سے کہتا ہوں کہ عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے، بات چیت کا اختیار کسی کو نہیں دیا، رانا ثنا اللہ
ان کا کہنا تھا کہ اگر فوج نے بات کرنی ہوتی تو کیا وہ ان کی تجویز کا انتظار کرتی؟ میں حیران ہوں کہ ایک اہم اور ذمہ دار حکومتی عہدیدار اس طرح کی تجویز کیسے دے سکتا ہے، یہ انتہائی نام مناسب تجویز ہے
سہیل وڑائچ کی رائے
معروف سیاسی تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز اچھی لیکن عملی طور مشکل ہے کیونکہ عمران خان کبھی اس تجویز کو نہیں مانیں گے۔ وہ بطور وزیراعظم اس طرح کے ڈائیلاگ کا کبھی حصہ بنیں اور نہ ہی بطور اپوزیشن وہ اس طرح کے ڈائیلاگ میں حصہ لیں گے۔
سہیل وڑائچ نے کہا کہ ایسا نہیں کہ یہ تجویز ناممکن ہو، ایک ڈیفنس کمیٹی ہے، لیڈر آف دی اپوزیشن بھی جس کا حصہ ہوتے ہیں وہاں شاید یہ بات ہو بھی سکتی ہے لیکن عمران خان کے سابقہ ریکارڈ کو دیکھ کر یہ مشکل نظر آتا ہے۔
سہیل وڑائچ نے کہا کہ تجویز اچھی ہے لیکن لیکن مشکل نظر آتی ہے۔














