عمران خان کو جیل میں کیا سہولتیں میسر ہیں؟ انجینیئر محمد علی مرزا نےعینی شاہد کی حیثیت سے حقائق بیان کر دیے

ہفتہ 3 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف مذہبی اسکالر انجینیئر محمد علی مرزا نے اڈیالہ جیل میں حالیہ قید کے دوران سامنے آنے والے اپنے تجربات کی روشنی میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں مبینہ خراب حالت سے متعلق گردش کرنے والے متضاد بیانیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں جانب سے پیش کیے جانے والے دعوے حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے اور زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:انجینیئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم جاری

نجی ٹیلی وژن چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انجینیئر محمد علی مرزا نے بتایا کہ وہ اڈیالہ جیل میں اس سیل کے قریب قید رہے جہاں عمران خان کو رکھا گیا تھا، اس لیے وہ بطور عینی شاہد حقائق بیان کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کو جیل میں 6 سیل الاٹ کیے گئے ہیں، جن میں ایک ان کے مشقتی کے لیے، ایک رہائش کے لیے اور باقی اضافی جگہ اور اسٹور کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان صبح تقریباً 9 بجے ناشتہ کرتے ہیں اور اکثر اپنے مشقتی کے ساتھ کرکٹ سمیت دیگر موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں۔ مرزا کے مطابق یہ کہنا درست نہیں کہ عمران خان کو مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے، کیونکہ وہ جیل کے ایک معروف حصے میں ہیں جہاں اس سے قبل بھی اہم شخصیات رکھی جا چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:انجینیئر محمد علی مرزا کیخلاف اسلامی نظریاتی کونسل کی قرارداد اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

انجینیئر محمد علی مرزا نے کہا کہ عمران خان کو بنیادی سہولیات میسر ہیں جن میں ٹی وی، اخبارات، طبی معائنہ، خشک میوہ جات اور جوس شامل ہیں، اور یہ سہولیات صرف انہیں نہیں بلکہ جیل کے دیگر قیدیوں کو بھی دستیاب ہوتی ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جیل بہرحال جیل ہوتی ہے اور ایک فعال اور عوامی زندگی گزارنے والے شخص کے لیے یہ صورتحال ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات عمران خان شدید غصے اور ذہنی دباؤ کا شکار نظر آئے، خاص طور پر سوشل میڈیا اور ٹوئٹس سے متعلق کیس کے دوران۔ مرزا کے مطابق اگر کوئی شخص 2 برس تک ایسی قید میں رہے تو اس کا ذہنی دباؤ میں آنا فطری امر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مذہبی اسکالر انجینیئر مرزا محمد علی کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج

انجینیئر محمد علی مرزا نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ انہیں کسی خاص مقصد کے تحت عمران خان کے قریب رکھا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ انہیں کوئی بریفنگ دی گئی اور نہ ہی کسی بااثر شخصیت نے ان سے ملاقات کی، کیونکہ وہ کسی کے لیے کام کرنے کے عادی نہیں۔

گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستان کے عدالتی نظام اور توہینِ مذہب کے مقدمات پر بھی بات کی اور کئی افسوسناک واقعات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے جیل پولیس کے رویے کو مجموعی طور پر انسانی اور ہمدردانہ قرار دیا اور بعض ججز کے کردار کو سراہا جنہوں نے مشکل حالات میں بھی انصاف کو ترجیح دی۔

انجینیئر محمد علی مرزا نے گفتگو کے اختتام پر خبردار کیا کہ ریاست کے سخت رویے کا جو عمل شروع ہو چکا ہے، اس کی ایک مثال ان کا اپنا کیس ہے، اور اگر ایسے الزامات ان پر لگ سکتے ہیں تو کسی پر بھی لگائے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وینیزویلا پر امریکی حملے کے بعد ’جیک رائن‘ سیریز کا کلپ کیوں وائرل ہوا؟

ریٹائرمنٹ کے بعد لیونل میسی کیا کرنا پسند کریں گے؟ فٹبالر نے خود بتادیا

پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ

پنجاب میں دھند کا راج برقرار، مختلف موٹرویز بند

امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟