معروف مذہبی اسکالر انجینیئر محمد علی مرزا نے اڈیالہ جیل میں حالیہ قید کے دوران سامنے آنے والے اپنے تجربات کی روشنی میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں مبینہ خراب حالت سے متعلق گردش کرنے والے متضاد بیانیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں جانب سے پیش کیے جانے والے دعوے حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے اور زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:انجینیئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم جاری
نجی ٹیلی وژن چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انجینیئر محمد علی مرزا نے بتایا کہ وہ اڈیالہ جیل میں اس سیل کے قریب قید رہے جہاں عمران خان کو رکھا گیا تھا، اس لیے وہ بطور عینی شاہد حقائق بیان کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کو جیل میں 6 سیل الاٹ کیے گئے ہیں، جن میں ایک ان کے مشقتی کے لیے، ایک رہائش کے لیے اور باقی اضافی جگہ اور اسٹور کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان صبح تقریباً 9 بجے ناشتہ کرتے ہیں اور اکثر اپنے مشقتی کے ساتھ کرکٹ سمیت دیگر موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں۔ مرزا کے مطابق یہ کہنا درست نہیں کہ عمران خان کو مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے، کیونکہ وہ جیل کے ایک معروف حصے میں ہیں جہاں اس سے قبل بھی اہم شخصیات رکھی جا چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:انجینیئر محمد علی مرزا کیخلاف اسلامی نظریاتی کونسل کی قرارداد اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج
انجینیئر محمد علی مرزا نے کہا کہ عمران خان کو بنیادی سہولیات میسر ہیں جن میں ٹی وی، اخبارات، طبی معائنہ، خشک میوہ جات اور جوس شامل ہیں، اور یہ سہولیات صرف انہیں نہیں بلکہ جیل کے دیگر قیدیوں کو بھی دستیاب ہوتی ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جیل بہرحال جیل ہوتی ہے اور ایک فعال اور عوامی زندگی گزارنے والے شخص کے لیے یہ صورتحال ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات عمران خان شدید غصے اور ذہنی دباؤ کا شکار نظر آئے، خاص طور پر سوشل میڈیا اور ٹوئٹس سے متعلق کیس کے دوران۔ مرزا کے مطابق اگر کوئی شخص 2 برس تک ایسی قید میں رہے تو اس کا ذہنی دباؤ میں آنا فطری امر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مذہبی اسکالر انجینیئر مرزا محمد علی کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج
انجینیئر محمد علی مرزا نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ انہیں کسی خاص مقصد کے تحت عمران خان کے قریب رکھا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ انہیں کوئی بریفنگ دی گئی اور نہ ہی کسی بااثر شخصیت نے ان سے ملاقات کی، کیونکہ وہ کسی کے لیے کام کرنے کے عادی نہیں۔

گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستان کے عدالتی نظام اور توہینِ مذہب کے مقدمات پر بھی بات کی اور کئی افسوسناک واقعات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے جیل پولیس کے رویے کو مجموعی طور پر انسانی اور ہمدردانہ قرار دیا اور بعض ججز کے کردار کو سراہا جنہوں نے مشکل حالات میں بھی انصاف کو ترجیح دی۔
انجینیئر محمد علی مرزا نے گفتگو کے اختتام پر خبردار کیا کہ ریاست کے سخت رویے کا جو عمل شروع ہو چکا ہے، اس کی ایک مثال ان کا اپنا کیس ہے، اور اگر ایسے الزامات ان پر لگ سکتے ہیں تو کسی پر بھی لگائے جا سکتے ہیں۔













