امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے قومی سلامتی اور چین سے ممکنہ روابط کے خدشات کے باعث ایک اہم ٹیکنالوجی معاہدہ روک دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے حکم کے تحت امریکی فوٹونکس کمپنی ہیفو کارپوریشن کو نیو جرسی کی دفاعی و ایرو اسپیس فرم ایمکور کے اثاثے خریدنے سے روک دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کمپیوٹر چپ کی تیاری: چین 2025 میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کے لیے پُرعزم
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ فیصلے میں امریکی فوٹونکس کمپنی ہیفو کارپوریشن کو ایمکور کے تقریباً 30 لاکھ ڈالر مالیت کے اثاثے حاصل کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ قومی سلامتی اور چین کے ممکنہ اثر و رسوخ کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہیفو کارپوریشن میں ایک ایسا فرد شامل ہے جو عوامی جمہوریہ چین کا شہری ہے، جس کے باعث اس معاہدے کو امریکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کی ملکیت حساس ٹیکنالوجی تک غیر محفوظ رسائی کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:توانائی کے صاف اور قابلِ تجدید ذرائع کا استعمال، چین امریکا پر بازی لے گیا
حکم نامے کے مطابق ہیفو کو ایمکور کے تمام اثاثوں اور حقوق سے 180 دن کے اندر دستبردار ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تاہم حکم میں کسی مخصوص فرد یا خطرے کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
یہ قومی سلامتی سے متعلق خدشات امریکی ادارے کمیٹی آن فارن انویسٹمنٹ اِن دی یونائیٹڈ اسٹیٹس (CFIUS) نے شناخت کیے، تاہم بیان میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ خطرے کی نوعیت کیا ہے۔

ایمکور کے مطابق ہیفو نے 2024 میں کمپنی کے انڈیم فاسفائیڈ ویفر فیبریکیشن آپریشنز اور چِپس بزنس کو 29 لاکھ 20 ہزار ڈالر میں خریدا تھا۔ ہیفو کے بانی جنزاؤ ژانگ اور ہیری مور ہیں، تاہم کمپنی نے تاحال صدر ٹرمپ کے فیصلے پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔














