امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کی ویڈیو لائیو دیکھی، بالکل جیسے کسی ٹی وی شو میں دیکھتے ہیں۔
ٹرمپ نے امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ مادورو کی گرفتاری کی کارروائی فلوریڈا میں فوجی جنرلز کے ساتھ دیکھی گئی۔
مزید پڑھیں: وینزویلا پر امریکی حملے پر دنیا کو تشویش لاحق، یورپی ملک نے ثالثی کی پیشکش کردی
ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کی تصویر بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کردی ہے، جس میں نکولس مادورو کو ہاتھ بندھے اور آنکھوں پر پٹی ڈالے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرویو میں مزید بتایا کہ مادورو کو نیویارک لے جایا جا رہا ہے، جہاں ان پر مین ہٹن کی عدالت میں منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت کیس چلے گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اس آپریشن کی خفیہ تیاری دسمبر کے آغاز سے کی گئی تھی، تاہم وینزویلا میں کس کی حکمرانی ہوگی، اس کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپریشن کے دوران ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں کچھ امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔
🇺🇸🇻🇪- Scenes from Caracas, the capital of Venezuela.
Smoke plumes are emitting from Fort Tiuna, a major military installation in Caracas. It is reported that 6 smoke columns are seen rising from the area.
– Air raid sirens all throughout Caracas pic.twitter.com/oREe0iKHnZ
— OSINT SPT (@smkycath) January 3, 2026
امریکی میڈیا کے مطابق مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو امریکی فورسز نے ان کے بیڈروم سے گرفتار کیا۔
واضح رہے کہ امریکا نے وینزویلا پر حملہ کیا اور دارالحکومت کاراکاس میں ڈیلٹا فورس کے ذریعے اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔
وینزویلا نے اس کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد ملک کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔
مادورو کون ہیں اور کیوں گرفتار کیے گئے؟
نیکولس مادورو نے وینزویلا کے سابق صدر ہوگو شاویز کے زیر قیادت سیاسی منظرنامے میں قدم رکھا اور 2013 میں ان کے بعد صدر منتخب ہوئے۔ 2024 کے صدارتی انتخابات میں مادورو کو فاتح قرار دیا گیا، تاہم اپوزیشن کے مطابق ان کے امیدوار نے واضح اکثریت سے جیت حاصل کی تھی۔
مادورو امریکی حکومت کے ساتھ تنازعات میں گھرے رہے، خاص طور پر وینزویلا سے امریکا آنے والے مہاجرین اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے معاملات پر۔ صدر ٹرمپ نے دو وینزویلا نڈرل گروہوں، ٹرین ڈی ارواگا اور کارٹیل دے لوس سولیس کو غیر ملکی دہشتگرد تنظیمیں قرار دیا اور الزام لگایا کہ کارٹیل دے لوس سولیس کی قیادت مادورو خود کر رہے تھے۔
امریکی حکومت نے مادورو کی گرفتاری کے لیے معلومات پر 50 ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔
مزید پڑھیں: امریکا کا وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کی گرفتاری کا دعویٰ، نائب صدر کا بیان سامنے آگیا
مادورو نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور امریکی ‘منشیات کے خلاف جنگ’ کو اپنے خلاف سازش قرار دیا، جس کا مقصد وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا بتایا۔
گزشتہ چند مہینوں میں امریکی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں کئی کارروائیاں کیں، جن میں متعدد افراد ہلاک ہوئے، جن پر الزام تھا کہ وہ امریکا میں منشیات اسمگل کر رہے تھے۔














